خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 566 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 566

خطبات مسرور جلد 14 566 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2016 ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود نے یہ بھی فرمایا کہ دنیاوی کام کرتے ہوئے بھی خدا کا خوف اور دین مقدم ہونا چاہئے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحه 91) واقفین کو کو تو اپنے قناعت کے معیاروں کو بہت بڑھانا چاہئے۔اپنی قربانی کے معیاروں کو بہت بڑھانا چاہئے۔یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہم مالی لحاظ سے کمزور ہوں گے تو ہمیں شاید ہمارے بہن بھائی کمتر سمجھیں یا والدین ہمیں اس طرح توجہ نہ دیں جس طرح باقیوں کو دے رہے ہیں۔اول تو والدین کو ہی یہ خیال کبھی دل میں نہیں لانا چاہئے کہ واقفین زندگی کمتر ہیں۔واقفین زندگی کا معیار اور مقام ان کی نظر میں بہت بلند ہو نا چاہئے۔لیکن واقفین زندگی کو خود اپنے آپ کو ہمیشہ دنیا کا عاجز ترین بندہ سمجھنا چاہئے۔واقفین نو کو جہاں قربانی کا معیار بڑھانا ہے وہاں اپنی عبادتوں کے معیار کو بھی بلند کرنا چاہئے ، اپنی وفا کے معیار کو بھی بڑھانا چاہئے۔اپنے اور اپنے والدین کے عہد کو پورا کرنے کے لئے اپنی تمام صلاحتیوں اور استعدادوں سے کام لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔دین کی خاطر ، دین کی سربلندی کی خاطر کام کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تب اللہ تعالیٰ بھی نوازتا ہے اور کسی کو بغیر جزا کے اللہ تعالیٰ نہیں چھوڑتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ایک موقع پر اپنے عہدوں کو وفا کے ساتھ پورا کرنے کے بارے میں نصیحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : "خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اسی لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کی ہے جیسا کہ فرمایا ہے: وَإِبْرهِيْمَ الَّذِى وَقُی (النجم:38) کہ اس نے جو عہد کیا اسے پورا کر کے دکھایا۔" (ملفوظات جلد 6 صفحہ 234) پس عہدوں کو پورا کرنا کوئی معمولی چیز نہیں ہے اور وہ عہد جو وقف زندگی کا عہد ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درد بھرے الفاظ ہم سن چکے ہیں یہ کیسا عظیم عہد ہے۔اگر ہر وقف نولڑ کا اور لڑکی اپنے اس عہد کو وفا کے ساتھ پورا کرنے والا ہو تو ہم دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔بعض نوجوان جوڑے میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں بھی وقف تو ہوں ، میری بیوی بھی وقف تو ہے، میرا بچہ بھی وقف ہے۔یاماں کہے گی کہ میں وقف ٹو ہوں، باپ کہے گا میں وقف نو ہوں اور میرا بچہ وقف تو ہے تو یہ بڑی قابل تعریف بات ہے۔لیکن اس کا حقیقی فائدہ تو جماعت کو تبھی ہو گا جب وفا کے ساتھ اپنے وقف کے عہد کو پورا کریں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے وفا کے مضمون کو ایک جگہ مزید کھولا ہے اور اس طرح کھولا ہے۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی راہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدق دکھایا جائے۔" سچائی پر قائم ہو۔وفا تمہاری سچی ہو۔اللہ تعالیٰ سے "حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے جو قرب حاصل کیا تو اس کی وجہ یہی تھی۔چنانچہ فرمایا ہے۔وَابْراهِيمَ