خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 565 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 565

خطبات مسرور جلد 14 565 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2016 ہے۔پس اگر بچپن سے یہ بات واقفین کے دماغوں میں بٹھا دی جائے کہ وقف زندگی سے بڑی کوئی چیز نہیں ہے۔دنیاوی طور پر دوسرے کی طرف دیکھنے کی بجائے، یہ سوچنے کی بجائے کہ میر افلاں کلاس فیلو میری جتنی تعلیم حاصل کر کے لاکھوں کما رہا ہے اور میں ایک مہینہ بھی اس کے ایک دن کی آمد کے جتنا نہیں کما رہا، یہ سوچ ہونی چاہئے کہ جو مقام مجھے خدا تعالیٰ نے دیا ہے وہ دنیاوی مال سے بہت بڑھ کر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو سامنے رکھیں کہ دنیاوی مال و اسباب کے لحاظ سے اپنے سے کمتر کو دیکھو اور روحانی لحاظ سے اپنے سے بڑھے ہوئے کو دیکھو تا کہ مادی دوڑ میں بڑھنے کی بجائے روحانی دوڑ میں بڑھنے کی کوشش کرو۔(بخاری کتاب الرقاق باب لينظر الى من هو اسفله من۔۔۔۔الخ حدیث 6490)(فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب الرقاق باب لينظر الى من هو اسفل منه۔۔۔الخ حديث 6490 جلد11 صفحه 392 مطبوعه قدیمی کتب خانه آرام باغ کراچی) پس جو واقفین کو لڑ کے خاص طور پر اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں خود بھی اپنی ظاہری اور مالی حالت کی بہتری کی بجائے روحانی حالت میں بہتری کی کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو ہر احمدی سے اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ اس کا معیار انتہائی بلند ہو تو ایک شخص جس کے ماں باپ نے پیدائش سے پہلے اس کو دین کے لئے وقف کر دیا اور اس کے لئے دعائیں بھی کی ہوں اس کو کس قدر ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو وصیت کروں اور یہ بات پہنچادوں آئندہ ہر ایک کا اختیار ہے کہ وہ اُسے نئے یانہ نے کہ اگر کوئی نجات چاہتا ہے۔اور حیات طیبہ یا ابدی زندگی کا طلبگار ہے تو وہ اللہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرے۔اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی، میری موت ، میری قربانیاں، میری نمازیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔اور حضرت ابراہیم کی طرح اُس کی رُوح بول اٹھے اسلَمتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (البقرة:132) " کہ میں تو اپنے رب کا فرمانبردار ہو چکا ہوں۔فرمایا جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا، خدا میں ہو کر نہیں مر تاوہ نئی زندگی پا نہیں سکتا۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم دیکھتے ہو کہ خدا کے لئے زندگی کا وقف میں اپنی زندگی کی اصل غرض سمجھتا ہوں۔یہی بنیاد ہے اور یہی مقصد ہے پھر تم اپنے اندر دیکھو کہ تم میں سے کتنے ہیں جو میرے اس فعل کو اپنے لئے پسند کرتے اور خدا کے لئے زندگی وقف کرنے کو عزیز رکھتے ہیں۔" (ملفوظات جلد اول صفحہ 100) پس واقفین ٹو کو عام احمدی سے بلند ہو کر یہ مقام حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دین کی خاطر دوسرے بھی وقف کرتے ہیں اور ہر ایک وقف کر بھی نہیں سکتا۔یہ بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے ایک گر وہ ہونا چاہئے جو دین کا علم حاصل کرے اور پھر جا کے اپنے لوگوں کو بتائے۔دنیاوی کاموں میں بھی الجھے ہوئے