خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 564 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 564

خطبات مسرور جلد 14 564 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2016 پیدائش سے پہلے کیا تھا اور جو دعائیں اس نے میری پیدائش سے پہلے مانگی تھیں اور پھر میری تربیت ایسے رنگ میں کی کہ میں دنیا کی بجائے دین کو تلاش کروں میری یہ خوش قسمتی ہے کہ میری ماں کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ نے سنا اور میری ماں کی کوششوں کو جو اس نے میری تربیت کے لئے کیں اللہ تعالیٰ نے پھل لگایا۔اب میں بغیر کسی دنیاوی لالچ اور خواہش کے صرف اور صرف دین کے لئے اپنے آپ کو وقف کرتا ہوں۔اس سوچ کا اظہار پہلے تو واقفین نو کو اپنے وقف کی تجدید کرتے ہوئے پندرہ سال کی عمر میں کرناضروری ہے۔اس کے لئے میں نے متعلقہ انتظامیہ جو ہے ان کو ہدایت بھی کی ہوئی ہے کہ پندرہ سال کی عمر میں با قاعدہ تحریری طور پر ان سے لیں کہ وہ وقف کو جاری رکھیں گے یا جاری رکھنا چاہتے ہیں۔پھر میں اکیس سال کی عمر میں جب پڑھائی سے فارغ ہو جاتے ہیں تو ان سب کے لئے ضروری ہے جو جامعہ میں داخل نہیں ہوئے کہ وہ اس بونڈ (Bond) کو دوبارہ لکھیں۔پھر اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ کسی شعبہ میں کچھ تربیت لے لو تو پھر دوبارہ تحریر کریں۔گویا کہ ہر مرحلے پر وقف ٹو کو خود اپنی دلی خواہش کے مطابق اپنے وقف کو قائم رکھنے کا اظہار کرنا چاہئے۔اس بارے میں جیسا کہ میں نے کہا میں پہلے تفصیلاً کئی مرتبہ بیان کر چکاہوں۔کسی وقف ٹو بچے کی یہ سوچ نہیں ہونی چاہئے کہ ہم نے اگر وقف کیا تو ہم دنیاوی طور پر کس طرح گزارہ کریں گے یا یہ وسوسہ دل میں پیدا ہو جائے کہ ہم ماں باپ کی مالی خدمت کس طرح کریں گے یا جسمانی طور پر خدمت کس طرح کریں گے۔گزشتہ دنوں میری یہاں واقفین ٹو کے ساتھ کلاس تھی تو ایک لڑکے نے یہ سوال کیا کہ اگر ہم وقف کر کے جماعت کو ہمہ وقت اپنی خدمات پیش کر دیں تو ہم اپنے والدین کی مالی یا جسمانی یا عمومی خدمت کس طرح کر سکیں گے۔یہ سوال پیدا ہونا اس بات کا اظہار ہے کہ ماں باپ نے بچپن سے اپنے واقفین کو بچوں کے دل میں یہ بات بٹھائی ہی نہیں کہ تمہیں ہم نے وقف کر دیا ہے اور اب تم ہمارے پاس صرف اور صرف جماعت کی امانت ہو۔دوسرے بہن بھائی ہماری خدمت کر لیں گے۔تم نے صرف اپنے آپ کو خلیفہ وقت کو پیش کر دینا ہے اور اس کے حکموں کے مطابق چلانا ہے۔حضرت مریم کی والدہ کی دعا میں جو لفظ محررا استعمال ہوا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ میں نے اس بچہ کو دنیاوی ذمہ داریوں سے بالکل علیحدہ کیا اور میری دعا ہے کہ خالصہ دین کی ذمہ داری ہی اس کی ترجیح ہو جائے۔پس ان ماؤں اور باپوں سے سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وقف ٹو کا صرف نام ہوناہی کافی نہیں ہے بلکہ وقف تو ایک اہم ذمہ داری ہے۔ایک وقف نو کے جوانی تک پہنچنے تک ماں باپ کی اور اس کے بعد خود اس کی اپنی یہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔بعض لڑکے لڑکیاں جنہوں نے دنیاوی تعلیم حاصل کی ہے بظاہر بڑا جوش دکھاتے ہیں، اپنی خدمات پیش کر دیتے ہیں لیکن بعد میں ایسی مثالیں بھی سامنے آئیں کہ اس لئے چھوڑ جاتے ہیں کہ جماعت جو الاؤنس دیتی ہے اس میں ان کا گزارہ نہیں ہوتا۔جب ایک بڑا مقصد حاصل کرنا ہے تو تنگی اور قربانی تو کرنی پڑتی