خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 563 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 563

خطبات مسرور جلد 14 563 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2016 لئے جو تکمیل اشاعت ہدایت کا مشن ہے، جو اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کا مشن ہے ، جو خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی طرف دنیا کو توجہ دلانے کا مشن ہے ، جو ایک دوسرے کا حق ادا کرنے کی اسلامی تعلیم دنیا کے ہر فرد تک پہنچانے کا مشن ہے ، اس کے لئے پیش کرتے ہیں۔پس یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے جو وقف کو بچوں کے والدین خاص طور پر ماں اپنے ہونے والے بچے کی پیدائش سے پہلے خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک عہد کرتے ہوئے پیش کرتی ہے اور خلیفہ وقت کو لکھتے ہیں کہ ہم حضرت مریم کی ماں کی طرح اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرتے ہوئے اپنے بچے کو وقف کو سکیم میں پیش کر رہے ہیں کہ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِى مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِتِى إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (آل عمران: 36) که اے میرے رب !جو کچھ میرے پیٹ میں ہے میں تیرے لئے پیش کر رہی ہوں۔یہ تو مجھے نہیں پتا کہ کیا ہے، لڑکا ہے یا لڑکی لیکن جو بھی ہے میری خواہش ہے میری دعا ہے کہ یہ دین کا خادم بنے۔فَتَقبل ملی۔میری اس خواہش اور دعا کو قبول فرما اور اسے قبول فرمالے۔إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِیم۔تو بہت سنے والا اور جاننے والا ہے۔پس میری عاجزانہ دعا بھی سن لے۔تجھے علم ہے کہ یہ دعا میرے دل کی آواز ہے۔یہ بچے کی ماؤں کی خواہش ہوتی ہے وقف سے پہلے اور ہونی چاہئے ایک احمدی ماں کی جب وہ اپنے بچے کو وقف ٹو کے لئے پیش کرتی ہے اور اس میں باپ بھی شامل ہے۔پس جب یہ دعا وقف کو میں شامل کرنے والے بچے کی ماں کرتی ہے تو ان ذمہ داریوں کا بھی احساس رہنا چاہئے جو اس عہد کے نبھانے اور اس دعا کے قبول ہونے کے لئے ماؤں پر بھی اور باپوں پر بھی عائد ہوتی ہیں۔وقف کو میں بچہ ماں اور باپ دونوں کی رضامندی سے پیش ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قرآن کریم میں محفوظ اس لئے نہیں فرمائی کہ پرانے زمانے کا ایک قصہ سنانا مقصود تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کو یہ دعا اس قدر پسند آئی اور اسے اس لئے محفوظ فرمایا کہ آئندہ آنے والی مائیں بھی یہ دعا کر کے اپنے بچوں کو دین کی خاطر غیر معمولی قربانیاں کرنے والا بنائیں۔گو کہ ہر مومن دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کرتا ہے لیکن وقف کرنے والے ان معیاروں کی انتہاؤں کو چھونے والے ہونے چاہئیں۔پس جب ابتدا سے مائیں اور باپ اپنے بچوں کے ذہنوں میں ڈالیں گے کہ تم وقف ہو اور ہم نے تمہیں خالصۂ دین کی خدمت کے لئے وقف کیا تھا اور یہی تمہاری زندگی کا مقصد ہونا چاہئے اور ساتھ ہی دعائیں بھی کر رہے ہوں گے تو پھر بچے اس سوچ کے ساتھ پروان چڑھیں گے کہ انہوں نے دین کی خدمت کرنی ہے۔اس سوچ کے ساتھ پروان نہیں چڑھیں گے کہ ہم نے بزنس مین بننا ہے ، ہم نے کھلاڑی بننا ہے ، ہم نے فلاں شعبہ میں جانا ہے، ہم نے فلاں شعبہ میں جانا ہے، بلکہ ان کی طرف سے یہ سوال کیا جائے گا کہ میں وقف کو ہوں مجھے جماعت بتائے، مجھے خلیفہ وقت بتائے کہ میں کس شعبہ میں جاؤں۔مجھے اب دنیا سے کوئی غرض نہیں۔جو عہد میری ماں نے