خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 562 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 562

خطبات مسرور جلد 14 562 44 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2016ء بمطابق 28 / اخاء1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الاسلام ، ٹورانٹو، کینیڈا تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں بچوں کو وقف کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔روزانہ مجھے والدین کے خط ملتے ہیں۔بعض دنوں میں ان کی تعداد میں پچیس ہو جاتی ہے جس میں ماں باپ اپنے ہونے والے بچوں کو وقف ٹو میں شامل کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے جب یہ تحریک فرمائی تھی، پہلے مستقل نہیں تھی پھر آپ نے اسے مستقل کر دیا اور جماعت نے بھی خاص طور پر ماؤں نے اس پر ہر ملک میں لبیک کہا۔آج سے بارہ تیرہ سال پہلے جماعت کی جو اس طرف توجہ ہوئی تھی اس کی وجہ سے جو تعداد واقفین ٹو کی 28000 سے اوپر تھی اب یہ تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے 61000 کے قریب پہنچ چکی ہے جس میں سے چھتیس ہزار سے اوپر لڑکے ہیں اور باقی لڑکیاں۔گویا وقت کے ساتھ ساتھ یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو پیدائش سے پہلے وقف کرنا ہے۔لیکن صرف بچوں کو وقف کے لئے پیش کرنے سے ماں باپ کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہو جاتیں بلکہ پہلے سے زیادہ ہو جاتی ہیں۔بیشک ایک احمدی بچے کی تربیت والدین پر ہے اور والدین اپنے بچے کی بہتری ہی چاہتے ہیں۔اس کی دنیاوی تعلیم بھی چاہتے ہیں۔تربیت بھی چاہتے ہیں۔دینی تعلیم بھی چاہتے ہیں اگر وہ دینی رجحان رکھنے والے والدین ہیں۔لیکن یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ ہر بچہ اور خاص طور پر وقف کو بچہ ان کے پاس جماعت کی امانت ہے جس کی تربیت اور اسے جماعت اور معاشرے کا بہترین حصہ بنانا والدین کا فرض ہے لیکن واقفین کو بچوں کی تربیت ان کی دینی اور دنیاوی تعلیم پر خاص توجہ اور انہیں بہتر طور پر تیار کر کے جماعت کو دینا اس لحاظ سے بھی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ پیدائش سے پہلے ماں باپ یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم جو کچھ بھی ہمارے ہاں پید اہونے والا ہے ، لڑکا ہے یالڑ کی اسے خدا کے لئے اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے مشن کی تکمیل کے