خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 561
خطبات مسرور جلد 14 561 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 طرف سادہ سی میز کرسی پڑی ہوئی تھی۔ان کی خدمت کے جذبے اور دعاؤں نے پہلے انہیں لیبر وارڈ اور پھر شعبہ گائنی کی independent بلڈ نگ عطا فرمائی جس کو انہوں نے اور ان کی ٹیم نے بڑے شوق اور لگن سے ایک کامیاب یونٹ بنا دیا۔میڈیکل equipment خرید نے خود لاہور اور فیصل آباد جایا کرتی تھیں اور میں بھی کچھ سفروں میں ان کے ساتھ تھی۔ہر دکاندار سے کو ٹیشن لیتیں اور کوشش کرتیں کہ جماعت کے پیسے کو بچایا جائے۔ایک دفعہ کہتی ہیں میری بیٹی عالیہ پندرہ دن کے لئے ربوہ آئی ہوئی تھی اسے بھی اپنے شعبہ کے کام میں شامل کیا کہ ٹائیپنگ میں مدد کرو کیونکہ تمہاری ٹائپنگ سپیڈ اچھی ہے اور جماعت کی خدمت کرنا ایک سعادت ہے اور تم اس سعادت سے حصہ پاؤ۔اپنے کام کی ایسی دھن تھی کہ بیماری کے آخری ایام میں بھی ہسپتال کا نام سن کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ آتی اور غنودگی کی حالت میں بھی ہسپتال کے آپریشن تھیئٹر اور مشین بنانے والی کمپنیوں کے نام لیتیں جسے سن کر انگریز نرسز بھی حیران ہو تیں اور مجھ سے پوچھنے لگتیں کہ یہ کیا کہ رہی ہیں۔اللہ کی ذات پر بے حد تو کل تھا۔شدید بیماری کے عالم میں چند دن تک بات نہیں کر سکتیں تھیں۔جب سپیکنگ والو (speaking valve) لگایا گیا تو جو پہلا فقرہ امی نے ادا کیا وہ یہ تھا کہ میری بیٹی اللہ پر چھوڑ دو۔اور اگر میں رونے لگتی تو آنکھ کے اشارے سے اللہ کی طرف اشارہ کرتیں۔اللہ تعالیٰ ان کی اس اکلوتی بیٹی کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور جو اس کی ماں نے اس کو نصیحتیں کی ہیں اور اس سے توقعات رکھی ہیں اللہ تعالیٰ ان پر اسے پورا اترنے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ اس بچی کو بھی اور اس کی اولاد کو بھی ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔مرحومہ کے بھی درجات بلند فرمائے اور اللہ تعالی فضل عمر ہسپتال کو خدمت کرنے والی اور وفا کے ساتھ اپنے کام کو پورا کرنے والی، وفا کے ساتھ جماعت سے وابستہ رہنے والی اور خلافت کی اطاعت گزار مزید ڈاکٹریں بھی عطا فرما تار ہے اور جو موجود ہیں ان کو اللہ تعالیٰ اس کام میں بڑھاتا چلا جائے۔نماز جمعہ کے بعد ان دونوں کا میں نماز جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 11 نومبر 2016 ء تا 17 / نومبر 2016ء جلد 23 شمارہ 46 صفحہ 05 تا 09)