خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 560 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 560

خطبات مسرور جلد 14 560 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 motivate کرتی تھیں۔ان کے ساتھ کام کرنے سے روز انسان کا ایمان تازہ ہو تا تھا اور دل میں وقف کی روح کا جذبہ ابھرتا تھا۔خلافت سے تعلق اور اطاعت کا ایک واقعہ مجھے عابد خان صاحب جو ہمارے پر لیس کے ہیں انہوں نے لکھا کہ انہوں نے انہیں کہا کہ میں تو خلیفہ وقت کے منہ سے کوئی بات سرسری طور پر بھی سن لوں، کوئی حکم نہ ہو بلکہ سرسری بات ہی ہو تو اس کو بھی میں حکم سمجھتی ہوں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔پس یہ ہے وہ وفا اور اطاعت کا معیار جو اُن میں تھا۔بہت سارے لکھنے والے ہیں اس وقت سب تو بیان کرنے مشکل ہیں۔ایک خاتون نے لکھا کہ ایک دفعہ میں اپنے گھر سے جو ہسپتال کے پیچھے ہے لجنہ کے دفتر جارہی تھی تو یہ جماعتی گاڑی میں باہر آرہی تھیں۔جماعتی کام سے کہیں جارہی تھیں۔مجھے پوچھا کہاں جارہی ہو تو میں نے بتایا لجنہ کے دفتر میں فلاں ڈیوٹی ہے تو انہوں نے ڈرائیور کو کہا کہ پہلے اس کو لجنہ کے دفتر میں چھوڑ آؤ کیونکہ یہ جماعتی کام سے جارہی ہے اور پھر کہا کہ جماعتی گاڑی کو میں صرف جماعتی کام کے لئے استعمال کرتی ہوں۔آپ کی بیٹی ندرت عائشہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ میری امی ایک مثالی ماں اور نہایت محبت کرنے والا وجود تھیں۔میرے اور میرے بچوں کے لئے بے حد دعائیں کیا کرتی تھیں۔جب کوئی مشکل در پیش ہوتی تو فوراً اقی کو فون کر دیتی اور بے فکر ہو جاتی اور اللہ کے فضل سے بعد میں وہ کام آسان بھی ہو جاتا۔پھر مجھے کہتیں کہ تم سجدہ شکر کرو۔بے پناہ مصروفیات کے باوجود میری پرورش اور تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔اتنی بلند حوصلہ اور باہمت تھیں کہ مجھے ماں اور باپ دونوں بن کر پالا۔کبھی اگر ان کو احساس ہوتا کہ بیٹی کی صحیح طرح خدمت نہیں کر سکی تو کہتیں کہ میں اپنی بیٹی کو مصروفیات کی وجہ سے اتنا وقت نہیں دے سکتی لیکن پھر فوراً کہتیں کہ جو وقت انسانیت کی خدمت میں صرف ہوا اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ میری اولاد کے کام خود بنادے گا۔ہمیشہ مجھے کہا کرتی تھیں کہ تمہارے نانا جان نے دو چیزیں اپنی اولاد کو نصیحت فرمائی تھیں۔ایک تو کل علی اللہ اور دوسرا خلافت سے وابستگی۔اور وہی نصیحت میں تمہیں کرتی ہوں کہ ہمیشہ اللہ پر توکل کرنا اور خلافت سے خود کو اور اپنی اولاد کو جوڑے رکھنا۔یہ لکھتی ہیں کہ خلافت سے بے پناہ عقیدت اور محبت رکھتی تھیں۔جب بیمار ہو ئیں اور وینٹی لیٹر (ventilator) لگانے لگے تو نماز پڑھی اور میرے موبائل فون سے قرآن پاک پڑھا۔پھر ایک پیپر اور قلم مانگا جس پر لکھ دیا کہ خلیفہ وقت کو بار بار دعا کا پیغام بھیجتی رہنا۔کہتی ہیں کہ میں نے اپنی امی کو بے انتہا پر خلوص اور جماعتی خدمت کے جذبہ سے سر شار پایا۔فضل عمر ہسپتال میں امی کی خدمات کا آغاز ایک چھوٹے سے کنسلٹیشن روم (consultation room) سے ہوا جس کے ایک طرف کاؤچ اور دوسری