خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 559
خطبات مسرور جلد 14 559 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 ہو چکا ہے اور اس میں ڈاکٹر نصرت جہاں کی قابلیت اور شبانہ روز محنت اور بھر پور جذبہ کا بہت بڑا حصہ ہے۔ایک ان کی سٹاف نرس جمیلہ صاحبہ لکھتی ہیں کہ ڈاکٹر صاحبہ کی وفات کا بڑا افسوس ہے۔ڈاکٹر صاحبہ ایک بہت ہی اچھی اور خوش اخلاق ڈاکٹر تھیں۔ہم سب کا بہت خیال رکھنے والی ڈاکٹر تھیں۔بچوں کی طرح ہمیں پیار کرتی تھیں اور بہت خیال رکھتی تھیں۔جو بھی غریب مریض آتا اس کو پرچی کے پیسے بھی واپس کر دیتیں اور دوائی بھی اپنے پاس سے دیتیں۔پھر ایک اور سٹاف نرس مسرت صاحبہ لکھتی ہیں کہ بہترین شفیق استاد اور بلند پایہ قابل ڈاکٹر تھیں۔میں نے تقریباً اکتیس سال کا عرصہ ان کے زیر نگرانی گزارا ہے۔بہت محبت کرنے والی، نہایت حساس، ہر مشکل گھڑی میں ساتھ دینے والی، بڑوں کی غمگسار ، بچوں سے شفقت کا سلوک کرنے والی، مریضوں کے ساتھ انتہائی محبت سے پیش آنا، ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا، تمام سٹاف کو ہمیشہ خدمت خلق اور خوش خلقی کا درس دینا، خلیفہ وقت کے حکم پر لبیک کہنے والی ہستی تھیں۔پھر ان کی ایک مریضہ لکھتی ہیں کہ ایک دفعہ میر اعلاج کر رہی تھیں اور واقف زندگی کی بیوی ہونے کی حیثیت سے کافی توجہ دیتی تھیں۔الٹرا ساؤنڈ کروانا تھا تو اپنی مددگار کو کہا کہ ان کا الٹراساؤنڈ کر والاؤ۔اس وقت کافی رش تھا۔ایک کرسی تھی وہاں جس پر ایک غریب سی عورت بیٹھی ہوئی تھی تو اس عورت نے جو اسسٹنٹ مددگار تھی اس نے اس عورت کو اٹھا کے اس مریضہ کو وہاں بٹھانا چاہا کیونکہ ڈاکٹر صاحبہ نے بھیجا تھا تو دیکھا کہ اچانک پیچھے سے آواز آئی کہ نہیں تم اس کرسی پہ نہیں، اس پر بیٹھو۔دیکھا تو ڈاکٹر صاحبہ خود ایک کرسی اٹھا کے لا رہی تھیں تاکہ جو دوسری غریب مریضہ ہے اس کو یہ احساس نہ ہو کہ مجھے اٹھایا گیا ہے کیونکہ مریض سارے ایک ہی طرح ہوتے ہیں۔لیکن دوسری طرف اس کی حالت دیکھ کے یہ بھی تھا کہ بیٹھنے کی جگہ مل جائے اس لئے خود ہی کرسی اٹھا کے لے آئیں اور اپنی مریضہ کو اس پہ بٹھا دیا۔ایک اور ڈاکٹر صاحبہ ہیں وہ لکھتی ہیں کہ جماعت کے لئے بہت غیرت رکھتی تھیں۔خلافت سے بے انتہا عشق تھا۔اپنے ساتھ کام کرنے والی ڈاکٹر ز کو بھی ابھارتی رہتی تھیں کہ خلیفہ وقت سے ذاتی تعلق پیدا کریں اور دعا کے لئے کثرت سے لکھا کریں۔ہر کام کے لئے جب بھی دعا کے لئے خلیفہ وقت کو لکھتیں تو کہتی ہیں ہمارے لئے بھی دعا کے لئے کہتیں۔پھر مجھے لکھا ہے کہ آپ کی طرف سے جواب آتا تو اس کو پڑھ کر سب کو سنا تیں اور آنکھوں میں جو خوشی ہوتی تھی وہ ان کے لہجہ سے بھی عیاں ہو رہی ہوتی تھی اور آنکھوں سے بھی۔کہتی ہیں کہ وہ ہم سب کے ایمان میں اضافے کا باعث ہوتی تھیں۔اپنی زندگی جماعت کے لئے وقف کر کے نہ صرف اپنی دنیاوی آسائشوں اور مال کی قربانی کی تھی بلکہ وہ ہم سب ڈاکٹر ز کو بھی اپنی زندگی کی مثالیں دے کر وقف اور جماعت کی خدمت کے لئے