خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 558
خطبات مسرور جلد 14 558 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 نے ایسا فضل فرمایا کہ جو بلیڈنگ ہو رہی تھی وہ مکمل طور پر رک گئی اور آپریشن کی ضرورت نہیں پڑی۔مہمان نوازی کے بارے میں ندیم صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے پروگرام الحوار المباشر کے لئے جو عرب لوگ آتے ہیں وہ 53 گیسٹ ہاؤس لندن میں بیٹھتے ہیں۔وہاں یہ خود بھی ٹھہری ہوئی تھیں اور یہ عرب بھی وہیں ٹھہرے ہوئے تھے۔کہتے ہیں ایک دن اپنی بیٹی کے ساتھ کچن میں پر اٹھے پکار ہی تھیں تو کہنے لگیں کہ آپ عرب لوگ حوار میں شامل ہو رہے ہیں۔میں نے چاہا کہ آپ لوگ جو دین کی خدمت کر رہے ہیں ان کو اپنے ہاتھ سے پراٹھے بنا کر کھلاؤں اور اس طرح میں بھی اس جہاد کے ثواب میں شامل ہو جاؤں۔مبشر ایاز صاحب جو ہمارے جامعہ ربوہ کے پرنسپل ہیں ان کے چاق و چوبند ہونے اور پردے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ہماری یہ ڈاکٹر صاحبہ بھی برقع میں ملبوس عین پر دے کی بہترین شکل کو اختیار کئے ہوئے فوجی جوانوں کی طرح بھاگ دوڑ کرتی ہوئی نظر آتی تھیں۔جو خواتین پر دے کو روک سمجھتی ہیں ان کے لئے یہ بہترین رول ماڈل تھیں۔سارا سارا دن کام کرتی رہتیں اور بڑی ایکٹو (active) رہتیں پھر بھی کبھی تھکاوٹ کا اظہار نہیں ہوا۔ڈاکٹر سلطان مبشر صاحب کہتے ہیں کہ کوارٹرز صدر انجمن احمدیہ میں ہم بھی رہتے تھے یہ بھی رہتی تھیں۔وہاں اس زمانے میں ربوہ کا ایک ماحول تھا، آپس میں بے تکلفی تھی، آنا جانا تھا۔دوست محمد شاہد صاحب کے یہ بیٹے ہیں۔اُن کی اور مولانا عبد المالک خان صاحب کی آپس میں دوستی بھی تھی اور چونکہ مولانا عبد المالک خان صاحب کے کوئی بیٹے وہاں نہیں تھے اس لئے دوست محمد شاہد صاحب نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ ان کے گھر سے پتا کرتے رہا کرو کہ کوئی ضرورت ہو کسی چیز کی، بازار سے کوئی چیز لانی وانی ہو تو کام کر دیا کرو۔تو یہ جاتے رہتے تھے۔اس لحاظ سے بڑی بے تکلفی تھی اور کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحبہ سے بھی پوچھتارہتا تھا۔پھر ہسپتال میں اکٹھے کو لیگ بھی رہے اور ہلکا سا بھی اگر ان کا کام کیا تو اتنی شکر گزار ہوتی تھیں کہ بے شمار شکریہ ادا کر کے اور پھر بچوں کو تحفے اور بیوی کو تحفے اور ان کو تحفے وغیرہ دیا کرتی تھیں۔یہ لکھتے ہیں کہ ان کا گائنی کا شعبہ جو تھا اس کو نئی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لئے قریباً ہر سال وہ انگلستان جا کر نئے پر وسیجر سیکھ کر آتی تھیں۔اور اپنے طور پہ آتی تھیں۔یہ نہیں کہ جماعتی خرچ پر آئیں۔نیز مختلف احباب کے تعاون سے نئی مشینیں بھی لاتیں۔یہ لکھتے ہیں کہ حال ہی میں زبیدہ بانی ونگ میں نئے آپریشن تھیئٹر کی تعمیر میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا لیکن اس کو استعمال کرنے کا ان کو موقع نہیں ملا۔بہر حال اللہ تعالیٰ جو موجود ڈاکٹر ہیں ان کو توفیق دے کہ اس کو صحیح استعمال کر سکیں۔یہ لکھتے ہیں کہ الغرض شعبہ کی موجودہ ہیئت جو ایک کمرے سے شروع ہوئی تھی، فضل عمر ہسپتال میں شعبہ گائنی صرف ایک کمرے میں ہو تا تھا اب ایک پورے ونگ میں تبدیل