خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 557
خطبات مسرور جلد 14 557 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 ان کی خوشی غمی میں شرکت کیا کرتی تھیں۔آپ کی ہمدردی اور شفقت کا دائرہ رشتہ داروں، پڑوسیوں اور عملہ اور ہسپتال ہی تک محدود نہ تھا بلکہ عملہ کے افراد خاندان، مریضوں اور ان کے لواحقین سبھی کو اس سے مستفیذ ہوتے ہوئے بارہا ہم نے دیکھا۔ضرور تمندوں کی نہایت کھلے دل سے اور ان کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے خاموشی سے مدد کر تھیں۔یہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اہم امور کا ریکارڈ محفوظ رکھتیں اور یہ لکھتے ہیں کہ خاکسار کے علم کے مطابق آپ کی قیادت میں شعبہ گائنی کاریکارڈ جو ہے اس وقت سب سے بہتر اور محفوظ حالت میں ہے۔ایک مربی صاحب فضیل عیاض صاحب ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ بے حد ہمدرد اور غمگسار تھیں۔1989ء میں جب عاجز جامعہ احمد یہ ربوہ میں خدمت کی توفیق پا رہا تھا تو اپنے خاندان کے، اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ ربوہ منتقل ہوا۔جب ہمارا علاج ڈاکٹر صاحبہ نے شروع کیا، بچے کی پیدائش کا علاج تھا یا کوئی اور مسئلہ تھا۔بہر حال علاج کے دوران بڑی مہربان شفیق اور ہمدرد تھیں۔ایک واقف زندگی مربی کی بیوی ہونے کی وجہ سے میری اہلیہ اور ہمارے بچے ہمیشہ ان کی خاص شفقت اور محبت کا مور در ہے۔کہتے ہیں ہماری چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔فضل عمر ہسپتال میں ہی ان کی پیدائش ہوئی۔کہتے ہیں ہمیشہ ہی ہم نے ان کو بچوں کی اور ان کی والدہ کی صحت کے بارے میں اپنے سے زیادہ متفکر پایا۔جب ہمارے گھر چار بیٹیاں ہو گئیں تو ایک مرتبہ میری تیسری بیٹی نے جس کی عمر اس وقت صرف بار سال تھی ان کے گھر جا کر ان سے کہا کہ ہمیں بھی بھائی لا کر دیں تو ڈاکٹر صاحبہ نے اس کو بہت پیار کیا اور کہا کہ اللہ سے دعا کرو اللہ تمہیں بھائی دے۔اور پھر جب دوبارہ ان کے گھر میں امید ہوئی تو ڈاکٹر صاحبہ نے خود بھی دعا کی اور حضرت خلیفہ المسیح الرابع کو دعا کے لئے لکھا اور ہر ملنے والے کو ان کی بیوی کے لئے دعا کے لئے کہتی تھیں۔کہتے ہیں کہ آخر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔جب بیٹا پیدا ہوا تو خود آکر ہمارے گھر سے میری بیٹی کو لے گئیں کہ لو تمہیں اللہ تعالیٰ نے بھائی دے دیا ہے اور پھر اس کے بعد خود اپنی گاڑی میں میری بیوی کو گھر چھوڑ کے گئیں۔غیر احمدی مریض بھی ان کے پاس بہت آتے تھے۔انہوں نے خود سنایا کہ ایک دفعہ چنیوٹ کے غیر احمدی مولوی صاحب آگئے۔ان کی بیوی کی اولاد نہیں ہوتی تھی تو ان کے علاج سے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور امید بندھی تو کہتی ہیں اب یہ مولوی صاحب نو مہینہ تو میرے قابو میں ہیں اور انہوں نے خوب ان کو تبلیغ کی۔کوئی ڈر اور خوف نہیں تھا۔چار پھر طاہر ندیم صاحب ہمارے عربی ڈیسک کے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحبہ کا دواؤں سے زیادہ دعا پر بھروسہ تھا۔کہتے ہیں میں لندن آ گیا جب میری بیوی وہیں تھی اور اہلیہ کا کوئی آپریشن کرنا تھا اس میں خطرہ پیدا ہو گیا۔ڈاکٹر صاحبہ نے ہمیں خود بتایا کہ اس وقت میں نے خدا تعالیٰ سے رو رو کر دعا کی کہ اے خدایا ! واقف زندگی کی بیوی ہے۔اس کا خاوند تیرے دین کی خدمت کے لئے گیا ہوا ہے تو اپنا فضل فرمادے، چنانچہ کچھ دیر کے بعد خد اتعالیٰ