خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 556 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 556

خطبات مسرور جلد 14 556 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 پورا برقع پہنا ہے اور کبھی کوئی کمپلیکس نہیں تھا اور پر دے کے اندر رہتے ہوئے سارے کام بھی کئے۔اس لئے وہ لڑکیاں جن کو یہ بہانہ ہو تا ہے کہ ہم پر دے میں کام نہیں کر سکتیں ان کے لئے یہ ایک نمونہ تھیں۔پھر کہتے ہیں کہ اپنے فن میں بہت ماہر تھیں۔جدید تکنیکی علم سے واقف تھیں اور اپنے علم کو نئے تقاضوں کے مطابق بڑھا کر کام کرتی تھیں۔کبھی اپنے کام کے دوران وقت کی پرواہ نہیں کی اور حاصل سہولیات سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا۔تشویشناک حالات کے مریضوں کی خاطر اپنی چھٹیوں کو قربان کر کے بارہ بارہ گھنٹے کام کرتی رہتیں۔کہتے ہیں مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے ایک ڈیلوری کے پیچیدہ کیس پر ساری رات جاگ کر کام کیا۔انہیں ممکنہ آپشنز کے بارے میں تسلی سے آگاہ کر تیں جس کی وجہ سے مریضوں کو اُن پر بڑا اعتماد تھا۔قواعد وضوابط اور اصولوں کی بھر پور پابند تھیں۔اپنے فرائض دیانتداری سے سر انجام دیتی تھیں۔بعض لوگ ان کے زمانے میں کہتے تھے مجھے بھی لکھتے تھے کہ بڑی سخت ہیں۔اگر سخت تھیں تو اصولوں کی وجہ سے۔لیکن ان کا دل بہت نرم تھا۔سخاوت اور ہمدردی بھی ان کا ایک اہم وصف تھا۔ڈاکٹر نوری صاحب لکھتے ہیں کہ ایک ضعیف خاتون جو طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں داخل رہی تھیں انہوں نے اپنا ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ ڈاکٹر صاحبہ اپنا کام ختم کر کے گاڑی میں واپس گھر جارہی تھیں کہ انہوں نے مجھے ہسپتال کے پاس اقصیٰ روڈ پر دیکھا تو گاڑی روکی اور میری گردن پر ہاتھ رکھ کر نہایت اطمینان سے میری بیماری کا پوچھا اور وہیں لکھ کر دوا تجویز کی اور پھر چلی گئیں۔ان کی قوت بیان بھی بہت عمدہ تھی۔ان کے والد صاحب مولانا عبد المالک خان صاحب بھی بڑے اعلیٰ پائے کے مقرر تھے۔فوزیہ شمیم صاحبہ صدر لجنہ لاہور نے نوری صاحب کو بتایا کہ لاہور میں لجنات سے خطاب کے لئے بلایا جاتا تو آپ کی شخصیت اور بیان کا سب پر یکساں اثر پڑتا۔آپ کی باتوں کا محور احمدیت، خلافت اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر تھا۔آپ کے اند از بیان میں آپ کے والد مرحوم مولانا عبد المالک خان صاحب کی جھلک نظر آتی تھی۔خلافت سے بہت وفا اور خلوص کا تعلق تھا۔میٹنگز، سیمیناروں میں اور یہاں تک کہ وارڈ کے راؤنڈ کے دوران بھی خلیفہ وقت کے ارشادات کا تذکرہ کرتی رہتی تھیں۔خلافت سے عقیدت صرف زبان تک محدود نہیں تھی بلکہ آپ کے عمل سے بھی اس کا اظہار ہو تا تھا۔صحیح معنوں میں ایک رول ماڈل خاتون تھیں۔ڈاکٹر محمد احمد اشرف صاحب لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں بڑی فراست اور دوراندیشی دے رکھی تھی۔بعض اوقات مریض کے علاج کے سلسلہ میں کسی پروسیجر کو کچھ وقت کے لئے مؤخر کر دیتیں اور بعد میں ان کا یہ فیصلہ درست نکلتا۔نہایت اچھی منتظمہ تھیں۔اپنے شعبہ کے کام پر مکمل گرفت رکھتیں۔اصولوں کی پابندی کر تیں۔اپنے موقف کا ڈٹ کر اظہار کرتیں۔معاملات کی گہری چھان بین کرنا اور ان سے آئندہ کے لئے رہنمائی لینا ان کی عادت تھی۔انتظامی معاملات میں رعب اپنی جگہ لیکن عملہ سے ہر درجہ پیار اور محبت کرنے والی تھیں اور