خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 555
خطبات مسرور جلد 14 555 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 کرتیں۔اور یہ تو ہر ایک نے لکھا ہے کہ خلافت سے بڑا گہرا تعلق تھا اور یہی حقیقت ہے غیر معمولی تعلق تھا۔کہتی ہیں پچھلے سال سے ہر اہم بات میں مجھے شامل کرتیں۔نیز مجھے ہر طرح کی گائنی سرجری بھی سکھائی اور یہ بھی اظہار کرتیں کہ میرے پاس وقت بہت کم ہے۔کہتی ہیں اُس وقت تو میں نے دھیان نہیں دیا تھا کہ ان کا کیا مطلب ہے کیونکہ بڑی ایکٹو (active) تھیں۔لیکن ان کی وفات کے بعد اب سمجھ آئی کہ ان کو اپنی بیماری کی وجہ سے بھی کچھ اندازہ تھا۔یہ کہتی ہیں کہ وہ ہمیں چھوڑ کے چلی گئیں۔ربوہ کے رہنے والوں پر ان کے بیشمار احسانات ہیں اور آج ہر آنکھ اشکبار ہے اور ہر دل دکھی ہے۔بہت سارے خطوط مجھے آئے ہیں۔انہوں نے بڑی حقیقت لکھی ہے۔ڈاکٹر امتہ الحئی صاحبہ جو گھانا میں ہسپتال میں ہماری گائنی ڈاکٹر ہیں وہ لکھتی ہیں کہ میری بھی جو ابتدائی ٹرینگ ہے وہ ڈاکٹر نصرت جہاں نے کی تھی اور پھر جب میں گھانا گئی تو مستقل میرے سے واٹس ایپ اور ای میل وغیرہ پہ رابطہ تھا۔کوئی بھی گائنی کا مسئلہ ہوتا تو بڑی خوشی سے مجھے اس کا جواب دیتیں اور رہنمائی کرتیں اور ہر مشکل وقت میں یہی کہا کرتی تھیں کہ خلیفہ وقت کو دعا کے لئے لکھو۔پھر یہ کہتی ہیں جب میں ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ کام کرتی تھی تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی ان کا دھیان رہتا تھا۔کہتی ہیں مجھے یاد ہے کہ جب بھی وہ کوئی زائد بتی، لائٹ جلتی دیکھتیں تو فوراً بند کر دیتیں کہ جماعت کا پیسہ بلاوجہ ضائع کیوں ہو رہا ہے۔پھر شادی شدہ کو شادی قائم رکھنے کی طرف توجہ دلا تیں۔کہتیں کہ جو خون کے رشتہ ہوتے ہیں وہ کبھی نہیں ٹوٹتے لیکن میاں بیوی کارشتہ پیار محبت کا ہوتا ہے وہ نہ رہے تو کچھ بھی نہیں رہتا۔اور یہ بڑا اچھا نسخہ ہے جو انہوں نے بتایا۔اس پہ ہر جوڑے کو عمل کرنا چاہئے۔کہتی ہیں جب گزشتہ دنوں بیماری سے پہلے ، لندن میں ہسپتال میں داخل ہونے سے چند دن پہلے مجھے فون کیا کہ نیا گائنی تھیٹر ربوہ میں بنا ہے اور پتا نہیں میں جا کے دیکھ سکتی ہوں یا نہیں۔مجھے بھی انہوں نے کہا تھا۔یا انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے دیر ہو جائے اس لئے ناظر اعلیٰ سے اس کا افتتاح کروا دیں۔میں نے ان کو ہدایت بھیجی ہے کیونکہ افراد سے جماعت کے کام نہیں رکتے۔ڈاکٹر نوری صاحب جو ربوہ میں طاہر ہارٹ کے انچارج ہیں وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ نو سال سے زائد عرصہ سے محترمہ ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ کے ساتھ فضل عمر ہسپتال کے زبیدہ بانی ونگ اور طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ان میں بعض ایسی صفات تھیں جو آجکل بہت کم ڈاکٹروں میں پائی جاتی ہیں۔بہت ہی نیک، دعا گو، اعلیٰ اخلاق کی حامل، خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والی، اپنے مریضوں کے لئے دعائیں کرنے والی، پردہ کی باریکی سے پابندی کرنے والی، قرآن کریم کا وسیع علم رکھنے والی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اُسوہ پر عمل کرنے والی خاتون تھیں۔اور انہوں نے یہاں یو کے (UK) میں بھی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد یہاں مختلف ہسپتالوں میں اپنے علم میں اضافے کے لئے بھی آتی تھیں لیکن ہمیشہ انہوں نے نقاب کا پر دہ کیا ہے اور