خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 34

خطبات مسرور جلد 14 34 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2016 مکہ سے ہجرت کر چکے تھے۔حضرت علی کی اس قربانی نے انہیں بعد میں کس قدر انعامات سے نوازا انو از نا تھا۔یہ حضرت علی کے علم میں نہیں تھا۔کسی انعام کے لئے یا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے قربانی نہیں دی تھی بلکہ خالصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں، عشق میں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے قربانی دی تھی۔اُس وقت یہ صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ انہیں اس قربانی کے بدلے میں کس قدر عزت ملنے والی ہے۔اور نہ صرف حضرت علی کو بلکہ نیکیوں پر قائم رہنے والی آپ کی اولاد کو اور نسلوں کو بھی اللہ تعالیٰ عزت سے نوازے گا۔حضرت علی پر پہلا فضل تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف حاصل ہوا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر حضرت علی کے مختلف کاموں کی وجہ سے بڑی تعریف فرمائی۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لئے کسی جگہ تشریف لے جارہے تھے تو حضرت علی کو مدینے میں رہنے کا حکم دیا۔حضرت علی نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑ کے جار ہے ہیں۔آپ نے فرمایا اے علی ! کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہاری میری نسبت وہ ہو جو ہارون کی موسیٰ سے تھی۔حضرت موسیٰ ہارون کو پیچھے چھوڑ کر گئے تھے۔اس سے ہارون کی عزت کم نہیں ہوئی تھی۔پس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بھی اللہ تعالیٰ نے عزت اس طرح قائم فرمائی اور پھر آپ تک ہی نہیں بلکہ اسلام میں جو اکثر اولیاء اور صوفیاء گزرے ہیں وہ حضرت علی کی اولاد میں سے ہی ہیں یا تھے اور ان اولیاء کو بھی اللہ تعالیٰ نے معجزات اور اپنی تائیدات عطا فرمائیں۔حضرت مصلح موعود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے ایک واقعہ سنا ہوا ہے اور وہ واقعہ یہ ہے کہ ہارون الرشید نے امام موسیٰ رضا کو کسی وجہ سے قید کر دیا اور ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں رسیاں باندھ دیں۔اس زمانے میں سپرنگ دار گدیلے تو نہ تھے۔عام روئی کے گدیلے ہوتے تھے۔ہارون الرشید اپنے محل میں آرام سے ان آرام دہ گدیلوں پر سویا ہوا تھا کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غضب کے آثار ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ہارون الرشید اتم ہم سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو مگر تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم آرام دہ گدیلوں پر گہری نیند سور ہے ہو اور ہمارا بچہ شدت گرما میں ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے قید خانے کے اندر پڑا ہے۔یہ نظارہ دیکھ کر ہارون الرشید بیتاب ہو کر اٹھ بیٹھا اور اپنے کمانڈروں کو ساتھ لے کر اسی جیل خانے میں گیا اور اپنے ہاتھ سے امام موسیٰ رضا کے ہاتھوں اور پاؤں کی رسیاں کھولیں۔انہوں نے ہارون الرشید سے کہا کہ آپ تو میرے اتنے مخالف تھے۔اب کیا بات ہوئی ہے کہ خود چل کر یہاں آگئے۔ہارون الرشید نے اپنا خواب سنایا اور کہا میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔میں اصل حقیقت کو نہ جانتا تھا۔