خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 33

خطبات مسرور جلد 14 33 3 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 15 / جنوری 2016ء بمطابق 15 صلح 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں اور نیکی پر قائم رہنے والوں کی اولاد در اولاد اور نسلوں کی بھی حفاظت فرماتا ہے اور انہیں نوازتا ہے بشر طیکہ وہ اولاد اور نسل بھی نیکی پر قائم رہنے والی ہو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی مثال دیتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی رسالت کے ابتدائی ایام میں اپنے خاندان کے لوگوں کو پیغام حق پہنچانے کے لئے دعوت کی تو پہلی دعوت میں کھانا کھا چکنے کے بعد جب اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے آپ کھڑے ہوئے اور ابھی بات شروع ہی کی تھی تو ابو لہب نے سب کو منتشر کر دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس حرکت پر بڑے حیران ہوئے لیکن مایوس نہیں ہوئے۔چنانچہ آپ نے دوبارہ حضرت علی سے فرمایا کہ دعوت کا دوبارہ انتظام کرو۔چنانچہ دوسری دفعہ آپ نے اسلام کا پیغام پہنچایا تو سب مجلس سناٹے میں آگئی۔سب خاموش تھے۔کوئی نہیں بولا۔آخر حضرت علی کھڑے ہوئے اور عرض کی کہ جو بھی لوگ اس مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں گو میں عمر میں ان سب سے چھوٹا ہوں لیکن آپ نے جو فرمایا ہے میں اس بارے میں آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوں اور عہد کرتاہوں کہ ہمیشہ ساتھ دوں گا۔بہر حال اس کے بعد مکہ میں مخالفت عروج پہ پہنچ گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کرنی پڑی۔اُس وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہی اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کی توفیق دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو اپنے بستر پر لٹایا اور فرمایا تم یہاں لیٹے رہو تاکہ دشمن سمجھے کہ میں لیٹا ہوا ہوں۔اُس وقت حضرت علی نے یہ نہیں کہا کہ یارسول اللہ ! دشمن باہر گھیر اڈال کے کھڑا ہے صبح جب انہیں پتا چلے گا تو بعید نہیں کہ مجھے قتل کر دیں۔بلکہ بڑے اطمینان کے ساتھ حضرت علیؓ آپ کے بستر پر سو گئے۔اور صبح جب کفار کو پتا چلا تو انہوں نے حضرت علی کو بہت مارا پیٹا۔لیکن بہر حال اُس وقت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم