خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 35
خطبات مسرور جلد 14 35 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2016 حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔اب دیکھو اس زمانے میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کے زمانے میں کتنا بڑا فاصلہ تھا۔ہم نے کئی بادشاہوں کی اولادوں کو دیکھا ہے کہ وہ در بدر دھکے کھاتی پھرتی ہیں۔فرماتے ہیں کہ میں نے خود دتی میں ایک سقہ دیکھا جو پانی کی مشکیں اٹھایا کرتا تھا، پانی پلایا کر تا تھا جو شاہان مغلیہ کی اولاد میں سے تھا۔وہ لوگوں کو پانی پلاتا پھرتا تھا مگر اس میں اتنی حیا ضرور تھی کہ وہ مانگتا نہیں تھا اور محنت کر رہا تھا۔لیکن بہر حال وہ بادشاہ کی اولاد ہونے کے باوجود ایک عام مزدور کی حیثیت سے رہ رہا تھا۔دوسری طرف دیکھو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد کو کہ اتنی پشتیں گزرنے کے بعد بھی خدا تعالیٰ ایک بادشاہ کو رویا میں ڈراتا ہے اور ان سے حسن سلوک کرنے کی تاکید کرتا ہے۔اگر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس اعزاز کا پتا ہوتا اور ان کو غیب کا علم ہوتا اور وہ محض اس عزت افزائی کے لئے اسلام قبول کرتے تو ان کا ایمان صرف سودا اور دوکانداری رہ جاتا، کسی انعام کا موجب نہ بنتا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 صفحه 26) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ ایک ولی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جہاز میں سوار تھا سمندر میں طوفان آگیا۔قریب تھا کہ جہاز غرق ہو جاتا۔اس کی دعا سے بچالیا گیا۔اور دعا کے وقت اس بزرگ کو الہام ہوا کہ تیری خاطر ہم نے سب کو بچالیا۔آپ علیہ السلام نے فرمایا دیکھو یہ باتیں نری زبانی جمع خرچ سے حاصل نہیں ہوتیں بلکہ اس کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنا پڑتا ہے۔نیکیوں کو جاری رکھنا پڑتا ہے جو اپنے آباء کی نیکیاں ہیں۔پس نیکوں کی نسل ہونا، ولیوں کی نسل ہونا، بزرگوں کی نسل ہو نا بھی اُسی وقت فائدہ دیتا ہے جب خود بھی نیکیوں پر انسان قائم ہو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو۔حضرت مسیح موعود اور نماز با جماعت کی پابندی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت مسیح موعود کے بارے میں بیان کردہ بعض اور باتیں بھی اس وقت آپ کے سامنے پیش کروں گا۔حضرت مصلح موعودؓ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نماز باجماعت کی پابندی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ "حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نماز اتنی پیاری تھی کہ جب کبھی بیماری وغیرہ کی وجہ سے آپ باہر تشریف نہ لا سکتے اور گھر میں ہی نماز ادا کرنی پڑتی تھی تو والدہ صاحبہ یا گھر کے بچوں کو ساتھ ملا کر نماز باجماعت پڑھا کرتے۔" (خطبات محمود جلد 13 صفحہ 538) صرف نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ باجماعت نماز پڑھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود ایک موقع پر نماز باجماعت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ تمام انسانوں کو ایک نفس