خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 554
خطبات مسرور جلد 14 554 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 یا قریبی دوستوں کے خرچ سے علاج کرواتیں۔جماعت کے پیسے کا بھی بہت درد رکھتی تھیں۔ہر وقت کوشش کرتیں کہ کم سے کم خرچ ہو۔جماعت کا ایک روپیہ بھی ضائع نہ ہو۔یہ کہتے ہیں کہ میں لاہور میں پرائیویٹ ہسپتال میں کام کرتا تھا تو مجھ سے پوچھتیں کہ فلاں چیز تم نے کس کمپنی سے کس قیمت پر خریدی ہے اور فلاں دوائی تم کس کمپنی سے کس قیمت پر خریدتے ہو۔پھر اگر موزوں ہوتی تو وہی چیز فضل عمر ہسپتال کے لئے ان اداروں سے کم قیمت پر خرید وادیتیں۔والدین سے بھی محبت تھی ان کی خدمت بھی بہت کی۔ان کی والدہ کی لمبی بیماری کے باوجود ان کی انہوں نے بہت خدمت کی۔اپنے فرائض بھی پورے کئے اور والدہ کی خدمت بھی کی۔اور اپنی بیماری بھی آخری ایام میں بڑی ہمت سے گزاری۔آخری بیماری کے دوران تقریباً دو مہینے ہسپتال رہی ہیں۔ہمیشہ یہی کہتی تھیں کہ تلاوت سناؤ۔گھر میں بھی بچوں کو نماز اور تلاوت کی تاکید کرتیں۔کوئی نیکی کی بات بچوں میں دیکھتی تھیں، تلاوت کرتے دیکھتیں تو خوش ہو تیں اور انعام دیتیں اور دعا دیتیں۔مبشر صاحب کہتے ہیں ہماری بیٹی جب بارہ سال کی ہوئی تو اس کو سر ڈھانپنے اور پر دے کا خیال رکھنے کی تلقین کرتیں اور حضرت اناں جان اور دیگر بزرگوں کے حوالے سے چھوٹی چھوٹی مگر اہم باتیں بچوں کو مثال یا واقعہ کی صورت میں سناتیں۔خود بھی پردے کی بہت پابند تھیں۔پس اگر والدین اور ان کے بڑے بچوں کو یہ نصیحت کرتے رہیں تو پھر لڑکیوں میں جو حجاب نہ لینے کا حجاب ہے وہ ختم ہو جاتا ہے بلکہ جرآت پیدا ہوتی ہے۔ڈاکٹر نصرت مجو کہ صاحبہ فضل عمر ہسپتال میں ہیں۔کہتی ہیں ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ کے ساتھ میرا تقریباً اٹھارہ سال سے تعلق تھا اور میں ہاؤس جاب کرتے ہی شعبہ گائنی فضل عمر ہسپتال کا حصہ بن گئی۔میری ساری پروفیشنل ٹرینگ ڈاکٹر صاحبہ نے کی۔وہ ایک قابل استاد تھیں۔ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں ان سے رہنمائی ملتی تھی۔مضبوط اور مکمل تھیں۔خدا تعالیٰ نے ان کو غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔وہ ایک اطاعت گزار اور ایک ہمدرد بیٹی بھی تھیں اور ایک شفیق ماں بھی۔ایک disciplined استاد بھی تھیں اور غمگسار بہن بھی اور دوست بھی۔کہتی ہیں کہ ان کی ساری زندگی قربانی سے عبارت ہے۔انہوں نے جماعت کی خدمت کے لئے اپنی ذاتی زندگی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ان کی ترجیحات عام انسانوں سے بہت مختلف تھیں۔وہ کہتی تھیں کہ میرے دو بچے ہیں ایک تو میری بیٹی ہے اور دوسر امیر اشعبہ ہے۔ہر وقت شعبہ گائنی کی ترقی کے لئے کوشاں رہتیں۔مریضوں کے لئے مستعد اور کمر بستہ رہتیں اور خاص طور پر جو جماعت کے کارکنان ہیں، غریب کارکنان ان کا بہت خیال رکھتیں۔اگر کسی کی بیوی بیمار ہوتی تو بار بار فون کر کے بھی ان کی بیماریوں کا پو چھتیں۔اپنے عملہ سے بڑی محبت کرتیں۔اگر ان سے زیادہ کام کرواتیں، اگر کہیں کسی وقت کسی مریض کی وجہ سے زیادہ کام کرنا پڑ جاتا تو گھر سے ان کے لئے کھانا بھجواتیں۔کسی مشکل وقت میں ان کی مدد کرنے کی کوشش