خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 553 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 553

خطبات مسرور جلد 14 553 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش کے مطابق کہ اپنے بیٹے کو دین کے لئے وقف کرنامولانا عبد المالک خان صاحب کو بچپن سے ہی وقف کر دیا تھا گو ان کی پیدائش بعد کی ہے۔1911ء میں ان کی پیدائش ہوئی۔مولانا نے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہونے کے بعد 1932ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کیا۔اس کے بعد ان کو ایک بڑی اچھی ملازمت مل گئی لیکن مولوی عبد المالک خان صاحب کے والد نے انہیں لکھا کہ میں نے تمہیں اس لئے نہیں پڑھایا کہ تم دنیا کماؤ۔کسی ایک کو دین بھی کمانا چاہئے۔یہ خط ملتے ہی مولا نا عبد المالک خان صاحب نے استعفی دیا اور قادیان واپس آکر مبلغین کلاس میں شمولیت اختیار کر لی اور یہی اخلاص اور وفا کا جذبہ تھا جو ڈاکٹر نصرت جہاں میں بھی تھا۔یوکے(UK) سے انہوں نے تعلیم حاصل کی۔پہلے ایم۔بی۔بی۔ایس پاکستان سے کیا پھر یو کے (UK) سے سپیشلائز کیا۔اور کہیں بھی وہ جاتیں تو لاکھوں روپیہ روزانہ کما سکتی تھیں۔لیکن دین کی خدمت کے لئے، انسانیت کی خدمت کے لئے چھوٹے سے شہر میں، ربوہ میں آکر آباد ہو گئیں اور ہسپتال کی اُس وقت جو بھی ضرورت تھی اُس ضرورت کو پورا کیا اور پھر تمام عمر بے نفس ہو کر ایسی خدمت کی جو انتہائی معیار پر پہنچی ہوئی تھی۔ان کے بارے میں بہت سے لوگوں نے مجھے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے، سب بیان کرنے مشکل ہیں۔بعض میں آگے جا کے بیان کروں گا۔ان کی ایک ہی بیٹی ہیں عائشہ نزہت وہ اس وقت یو کے میں ہی اپنے خاوند کے ساتھ مقیم ہے۔ان کے تین بچے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحبہ نے پاکستان میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے ایم۔بی۔بی۔ایس کیا پھر انگلستان سے آر۔سی۔اوجی یعنی گائنی سپیشلسٹ کا کورس کیا Royal College of Obstetricians and Gynaecologists 1985ء میں فضل عمر ہسپتال میں اپنی خدمات کا آغاز کیا اور 20 اپریل 1985ء سے اب تک یہ خدمت سر انجام دیتی رہیں۔جیسا کہ میں نے کہا بیمار بھی تھیں۔ان کو کچھ جگر کی بیماری تھی اس کے علاج کے سلسلہ میں یہ رخصت لے کر 5 اپریل کو لندن آئی تھیں۔علاج ہو رہا تھا اور علاج اللہ کے فضل سے کامیاب ہو گیا تھا۔پھر ان کو جلسہ کے بعد چیسٹ انفیکشن ہوا اس سے بھی کچھ حد تک لگ رہا تھا کہ واپسی ہے لیکن پھر اچانک حملہ ہوا اور وفات ہوئی۔ان کے داماد مقبول مبشر صاحب کہتے ہیں خدا پر نہایت درجہ تو کل تھا۔عبادت کا ذوق تھا۔قرآن سے محبت تھی۔خلافت سے گہری وابستگی تھی۔پوری طرح شرح صدر سے خلافت کی اطاعت، خدمت خلق، مریض کی شفا اور آرام ان کی پہلی ترجیح تھی۔اور جو باتیں یہ بیان کر رہے ہیں میں ذاتی طور پر بھی گواہ ہوں یہ کوئی مبالغہ نہیں ہے بلکہ حقیقت میں یہ باتیں ہیں جو اُن میں تھیں۔ہر سرجری سے پہلے اور علاج سے پہلے دعا کر تیں۔روزانہ صدقہ دیتیں۔ربوہ میں موجود بزرگوں کو اپنے مریضوں کی شفایابی کے لئے کہتیں۔بہت سے نادار مریضان کا اپنی جیب سے