خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 552
خطبات مسرور جلد 14 552 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 ہے اللہ تعالیٰ وہ سب کچھ اسے وقف کی برکت سے دے دے گا۔کہتے ہیں والد صاحب نے جب یہ خط بھائی کو دیا تو خط پڑھ کر بغیر کسی سوال کے اپنا سامان اٹھایا اور ربوہ کو چلے گئے۔اور پھر یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے الفاظ بھی کیسے پورے کئے۔وکیل بنتے تو دنیاوی وکیل تھے۔دنیاوی اعزازات بھی ملے اور دینی خدمت کا بھی موقع ملا اور ان کے یہ بھائی لکھتے ہیں کہ جو خلیفہ ثانی نے لکھا تھا وہ سب کچھ وقف کی برکت سے ملا۔مرتبہ بھی ملا، عزت بھی ملی، شہرت بھی ملی اور سب کچھ ملا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی بھر پور زندگی انہوں نے گزاری ہے۔خلافت سے بھی ان کا بڑا وفا کا تعلق تھا۔بڑا عرصہ ان کو دل کی بڑی تکلیف تھی۔ان کا دل کا آپریشن بھی ہوا۔ایک وقت میں تو بالکل نا امیدی کی کیفیت تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے نئی زندگی دی۔اس بیماری کی وجہ سے ان کو کمزوری بھی بہت ہوتی تھی لیکن بڑی باقاعدگی سے یہ نہ صرف مجھے خط لکھتے تھے اور وفا کا اور اخلاص کا اظہار کیا کرتے تھے بلکہ جہاں بھی ان کو پتا لگتا کہ میں جس فنکشن میں شامل ہو رہا ہوں یہ ضرور وہاں آیا کرتے تھے اور پھر واکر کے ذریعہ سے یا جس طرح بھی بعض دفعہ کمزوری میں ان کو میں نے دیکھا ہے جمعوں پہ ضرور شامل ہوا کرتے تھے۔چل کے آتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کو بھی اخلاص و وفا سے جماعت کے ساتھ تعلق رکھنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسراذکر جیسا کہ میں نے کہا محترمہ ڈاکٹر نصرت جہاں مالک صاحبہ کا ہے جو حضرت مولانا عبد المالک خان صاحب کی بیٹی تھیں۔11 / اکتوبر 2016ء کو لندن میں وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔تھیں تو یہ ربوہ میں لیکن برٹش نیشنل تھیں۔ہر سال آیا کرتی تھیں۔کچھ تو اپنی جو پیشہ وارانہ مہارت کو بڑھانے کے لئے بھی مختلف ہسپتالوں میں جاتی تھیں اور کچھ عرصہ سے بیمار تھیں۔کچھ علاج بھی کروا رہی تھیں اس لئے یہاں تھیں اور یوکے (UK) کے جلسہ کے بعد ایک دم ان کو انفیکشن ہوا۔چیسٹ (chest) انفیکشن ہوا۔بڑھتا چلا گیا۔پھر پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کافی ریکوری (recovery) ہو گئی تھی اور ڈاکٹر کچھ پر امید بھی تھے۔لیکن ساتھ ہی یہ خطرہ بھی تھا کہ اگر دوبارہ انفیکشن کا حملہ ہوا تو بچنا مشکل ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر تھی دوبارہ ایک دن اچانک حملہ ہوا اور اس بیماری کے بعد چند گھنٹوں میں ان کی وفات ہو گئی۔ان کی پیدائش 15 اکتوبر 1951ء کی ہے۔کراچی میں پیدا ہوئیں۔ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ کے والد محترم مولانا عبد المالک خان صاحب بھی پرانے خادم سلسلہ تھے۔حضرت خان ذوالفقار علی خان صاحب کے بیٹے تھے۔ان کا آبائی وطن نجیب آباد ضلع بجنور تھا جو یو پی (UP) میں واقعہ ہے۔انہوں نے یعنی ڈاکٹر نصرت جہاں کے دادا نے 1900ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بذریعہ خط بیعت کی اور پھر 1903ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ملاقات کی سعادت پائی۔حضرت مولانا خان ذوالفقار علی خان صاحب گوہر نے