خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 551
خطبات مسرور جلد 14 551 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 جاری کردہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز کی ادارت کا بھی شرف انہیں حاصل ہوا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے 1967ء سے لے کر اپنے دور خلافت میں یورپ کے آٹھ دورے کئے ان میں سے سات دوروں میں مولانا بشیر رفیق صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے قافلہ میں شامل رہے۔دو دفعہ دوروں میں بطور پرائیویٹ سیکرٹری بھی شامل ہونے کی توفیق ملی۔1970ء میں واپس پاکستان آئے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کے پرائیویٹ سیکر ٹری کے طور پر تقرر ہوا۔1971ء میں پھر لندن واپس آئے اور امام کے طور پر اپنی سابقہ ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالیں۔1976ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے ساتھ بطور ان کے پرائیویٹ سیکرٹری کے امریکہ اور کینیڈا کے دورے پر جانے کی بھی ان کو سعادت ملی۔مئی 1978ء میں جو بین الا قوامی کسر صلیب کا نفر نس لندن میں ہوئی تھی اس میں شمولیت کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " تشریف لائے تھے اور اس کے انتظامات کو پایہ تکمیل کو پہنچانے کے لئے احباب جماعت برطانیہ ، مجلس عاملہ انگلستان اور کانفرنس کمیٹی نے دن رات ایک کر کے کام کیا اور ٹیم ورک کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔ان کی سرکردگی میں یہ کام ہوا۔1964ء تا 70 ء اور پھر 71ء تا79ء امام مسجد فضل لندن رہے۔مسلم ہیرلڈ میگزین کے بانی ایڈیٹر 61ء تا79ء، پرائیویٹ سیکر ٹری حضرت خلیفتہ المسیح الثالث 70ء تا 71ء۔پھر نومبر 85ء میں آپ وکیل الدیوان تحریک جدید مقرر ہوئے، 87ء تک رہے۔وکیل التصنیف ربوہ 82ء تا 85ء۔ایڈیشنل وکیل التبشیر ربوہ 83ء تا 84ء۔ایڈیشنل وكيل التصنيف لندن 1987ء تا 1997ء - ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز 1983ء تا 1985ء۔چیئر مین بورڈ آف ایڈیٹرز ریویو آف ریلیجنز 1988ء تا 95ء، ممبر صدر انجمن احمد یہ پاکستان 1971ء تا1985ء۔ممبر افتاء کمیٹی 1971ء تا 1973ء۔ممبر بورڈ قضاء 1984ء تا 1987ء۔اور اسی طرح بعض دنیاوی پوسٹوں پر کام کی بھی ان کو توفیق ملی۔روٹری کلب وانڈ زور تھ کے ممبر تھے اور وائس پریذیڈنٹ تھے۔پھر پریذیڈنٹ روٹری کلب بھی مقرر ہوئے۔1968ء میں لائبیریا کے صدر مملکت جناب شب مین کی دعوت پر بطور مہمان خصوصی انہیں بلایا گیا اور لائبیریا کا اعزازی چیف مقرر کیا گیا۔اور ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ بڑی باقاعدگی سے تہجد ادا کرتے اور بڑے التزام سے دعا کیا کرتے تھے یہاں تک کہ نام لکھ کر دعا کرتے تا کہ کسی کا نام بھول نہ جائیں۔کثرت سے درود بھیجنے والے، چندے کی اہمیت کو ہم پہ بڑا واضح کیا۔ان کے بھائی کرنل نذیر ان کا واقعہ لکھتے ہیں جو مختصر میں نے بیان کیا تھا کہ حضرت خلیفہ ثانی نے جب بلایا تو اس وقت انہوں نے لاء کالج میں داخلہ لے لیا تھا تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا جو خط آیا ان کے والد کو کہ ان کو بھیجیں تو انہوں نے کہا کہ میں وکالت کر کے جماعت کی زیادہ بہتر خدمت کر سکتا ہوں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس کے جواب میں لکھا کہ ہمیں دینی وکیل چاہئیں، دنیاوی نہیں۔جو رتبہ ، عزت، دولت اور شہرت وہ دنیا میں دیکھنا چاہتا