خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 550 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 550

خطبات مسرور جلد 14 550 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 شمس صاحب نے فرمایا کہ میں ملک شام میں مبلغ تھا تو میرے ذریعہ سے ایک متمول گھرانے کے ایک فرد جناب منیر الحصنی صاحب نے احمدیت قبول کر لی۔پرانے احمدی تھے۔بڑے مخلص احمدی تھے۔اس کے بعد ہی شام میں پھر جماعت پھیلی ہے۔کہتے ہیں اور اس کے بعد دن بدن ان کا خدمت دین کا جذبہ اور جوش ترقی کرتا گیا۔منیر الحصنی صاحب روزانہ عصر کے بعد مشن ہاؤس آجاتے تھے۔شام میں اس زمانے میں مشن ہاؤس ہو تا تھا۔اس زمانے میں پابندیاں نہیں تھیں۔شمس صاحب کہتے ہیں اور بڑے شوق سے میرے لئے وہ کھانا تیار کیا کرتے تھے اور اس پر بڑا اصرار کرتے تھے اور پھر شام کو ہم دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ایک دن جب ہم کھانے پہ بیٹھے تو میں نے منیر الحصنی صاحب سے کہا کہ آج سالن میں نمک زیادہ ہے آئندہ احتیاط کریں۔منیر الحصنی صاحب کچھ دیر خاموش رہے پھر کہنے لگے مولانا صاحب آپ تو جانتے ہیں کہ میرے گھر پر خدمت کے لئے کئی ملازم موجود ہیں۔بڑے امیر آدمی تھے۔حتی کہ جب میں شام کو گھر جاتا ہوں تو میرے بوٹ کے تسمے بھی میرا نوکر آکر کھولتا ہے۔میں نے اپنے گھر میں کبھی ایک پیالی چائے بھی خود نہیں بنائی۔میں یہاں آکر آپ کے لئے جو کھانا بناتا ہوں وہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کرتا ہوں ورنہ کہاں میں اور کہاں سالن کی تیاری۔اس لئے اگر مجھ سے مصالحہ کم یا زیادہ ڈالنے میں کوئی کوتاہی ہو جایا کرے تو معاف کر دیا کریں کہ کھانا بنانا میر اکام نہیں ہے۔یہ واقعہ سنا کر حضرت مولوی شمس صاحب فرمانے لگے کہ اس واقعہ سے میں نے یہ سبق سیکھا کہ ہماری خدمت یعنی مبلغین کی خدمت جو احباب بہت خوشی سے کرتے ہیں وہ ہماری ذات کی وجہ سے ہرگز نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور سلسلہ احمدیہ کی محبت میں کرتے ہیں اس لئے ہمیں ہمیشہ یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ جتنی بھی کوئی خدمت ہماری کرتا ہے یہ اس کا ہم پر احسان ہے۔اگر ان سے کو تاہی ہو جائے تو ہمارا کوئی حق نہیں کہ ان سے باز پرس کریں یا انہیں ٹو کیں۔بہر حال عجیب عجیب وفا سے بھرے ہوئے، اخلاص سے بھرے ہوئے لوگ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو عطا فرمائے اور ابتدا سے اب تک عطا فرماتا چلا جارہا ہے۔یہ کہتے ہیں کہ 1964ء میں مکرم چوہدری رحمت خان صاحب جو وہاں لندن مسجد کے امام تھے بیماری کی وجہ سے واپس گئے تو ان کو مسجد فضل کا امام مقرر کر دیا گیا۔1960ء میں بشیر رفیق صاحب نے انگریزی رسالہ مسلم ہیرلڈ بھی جاری کیا اور شروع میں دس صفحات پر مشتمل تھا۔ایڈیٹر بھی خود تھے اور باقی کام بھی خود کرتے تھے۔1962ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی تحریک پر اخبار احمدیہ کے نام سے پندرہ روزہ اخبار شائع کرناشروع کیا۔آپ بیان کرتے ہیں کہ اس اخبار کا بانی بھی میں تھا اور ایک لمبے عرصے تک ایڈیٹر بھی ہونے کا شرف حاصل رہا اور باقاعدگی سے اس کے لئے مضمون بھی لکھتے رہنے کی توفیق ملی۔بڑے علمی آدمی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے