خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 549 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 549

خطبات مسرور جلد 14 549 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 دن بعد کہتے مجھے تو یہی جواب آرہا ہے کہ تم پاس ہو چکے ہو۔کہتے ہیں ایک دن اتفاق سے ڈاک میں بہت سارے خطوط آگئے۔اس میں ایک خط یونیورسٹی کی طرف سے بھی تھا جو میں نے کھولا تو میں حیران رہ گیا۔یونیورسٹی نے کہا کہ غلطی سے تمہیں فیل قرار دے دیا گیا تھا۔اب پرچوں کی دوبارہ پڑتال ہونے کے بعد تم پاس قرار دیئے گئے ہو۔کچھ دنوں کے بعد یہ کہتے ہیں کہ میں خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضوڑ سے سارا واقعہ بیان کیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا کہ میں نے تمہیں بتایا تھا کہ مجھے دعاؤں کے بعد تمہارے پاس ہونے کی خبر دی گئی ہے جس کی اطلاع میں نے تمہیں کر دی تھی کہ تم پاس ہو جاؤ گے۔پس یہ جو رزلٹ آیا ہے واضح ہے۔خدائی بات کو کون ٹال سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا تو بتایا تھا۔یہ تو پھر مذاق بن جاتا کہ اللہ تعالیٰ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو بھی اور ان کے والد کو بھی یہ بتارہا ہے اور رزلٹ اور ہے۔آخر وہی بات صحیح ثابت ہوئی جو اللہ تعالیٰ نے بتائی تھی۔اس کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ جامعہ میں داخل ہو جاؤ اور شاہد کی ڈگری حاصل کرو۔میری خواہش ہے کہ تمہیں میدان تبلیغ میں بھجوایا جائے۔کہتے ہیں کہ جامعہ کی ہماری کلاس کو یہ خاص اعزاز بھی حاصل تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی بھی چند مرتبہ وہاں تشریف لائے اور مختلف علوم میں مہارت حاصل کرنے کے طریقے کی طرف توجہ دلاتے رہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے خاص طور پر اس طرف توجہ دلائی کہ ہر طالبعلم کو اپنی لائبریری بنانی چاہئے اور کتابیں خریدنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔اور یہ بات ایسی ہے جو ہر جامعہ کے طالبعلم کو ہمیشہ یادرکھنی چاہئے۔اب دنیا میں بے شمار جامعات ہیں، واقفین زندگی ہیں ان کو اپنی لائبریریاں بنانی چاہئیں۔گزشتہ دنوں لندن میں مربیان کی میٹنگ تھی وہاں بھی میں نے ان کو کہا تھا کہ مربیان کی اپنی لائبریریاں بھی ہونی چاہئیں ، صرف جماعتی لائبریری انحصار نہ کریں۔کہتے ہیں جامعتہ المبشرین کی درسگاہ سے شاہد کی ڈگری لے کر میں وکالت تبشیر میں حاضر ہو گیا۔مکرم مر زا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر تھے۔مجھے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے پاس لے گئے تو آپ نے فرمایا کہ اس کو انگلستان بھجوا دیا جائے۔پھر کہتے ہیں انگلستان جانے کے لئے بھی وکیل التبشیر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے ملاقات ہوئی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تفصیلی ہدایات لکھوائیں، دعائیں دیں، رخصت کیا، معانقہ کیا اور انگلستان 1959ء میں آپ کی تقرری ہوئی۔وہاں پہنچ گئے اور مسجد فضل لندن میں نائب امام کے طور پر خدمات کا سلسلہ شروع ہوا۔کہتے ہیں کہ 1959ء میں جب انگلستان کے لئے روانہ ہوئے تو ایک دن مولانا جلال الدین صاحب شمس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کچھ نصائح کرنے کی درخواست کی۔مولانا جلال الدین صاحب سمس بھی بڑا لمبا عرصہ امام مسجد لندن رہے تھے تو انہوں نے مختلف نصائح کیں اور فرمایا کہ ایک نصیحت میں تمہیں کرتا ہوں وہ یہ ہے اور میں نے اپنی زندگی میں اس نصیحت سے بڑا فائدہ اٹھایا ہے کہتے ہیں