خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 548
خطبات مسرور جلد 14 548 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے اور ان کی ساری اولاد کو ان کا حقیقی وارث بنائے۔ان کی شادی 1956ء میں سلیمہ ناہید صاحبہ سے ہوئی جو عبد الرحمن خان صاحب کی بیٹی تھیں جو خان امیر اللہ خان صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ان کی اولاد میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔1945ء میں خان صاحب تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں داخل ہوئے اور اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی۔انہی دنوں ایک خطبہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نوجوانانِ احمدیت کو زندگی وقف کرنے کی تحریک کی چنانچہ نماز جمعہ کے ختم ہوتے ہی کئی نوجوانوں نے اپنے نام پیش کئے اور ان خوش نصیب نوجوانوں میں یہ بھی شامل تھے۔اور اس زمانے میں با قاعدہ انتظام اس طرح نہیں تھا تو اس کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذاتی خط ان کو ملا کہ آپ کا وقف قبول کیا جاتا ہے۔1947ء تک جب تک پارٹیشن نہیں ہوئی انہوں نے قادیان میں تعلیم جاری رکھی۔میٹرک پاس کرنے کے بعد یا شاید پارٹیشن سے کچھ عرصہ پہلے اپنے علاقے میں چلے گئے تھے۔کالج میں جب داخلہ لے لیا تو یہ کہتے ہیں اچانک ایک دن مجھے پرائیویٹ سیکرٹری کا خط ملا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ قادیان میں ایک پٹھان طالبعلم تھا جس نے زندگی وقف کی تھی لیکن اس کا نام نہیں پتا کون تھا اور پارٹیشن کی وجہ سے ریکارڈ بھی گم ہو گیا یار بوہ میں موجود نہیں۔اس کا پتا کریں۔1945ء میں پڑھنے والے طلباء میں سے کون تھا وہ جس نے وقف کیا تھا۔اتفاق سے ان کے گھر خط آیا۔انہوں نے لکھا کہ وہ میں ہی تھا۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے انہیں حکم دیا کہ فوراً ربوہ حاضر ہو جائیں اور تعلیم الاسلام کالج لاہور میں داخلہ لو اور بی اے کرو۔اس وقت حضرت خلیفتہ المسیح الثالث "وہاں کے پرنسپل تھے۔کہتے ہیں کہ 1953ء میں جب امتحان کی تیاری میں مصروف تھا تو اچانک اینٹی احمد یہ فسادات پھوٹ پڑے اور اسی حالت میں ہم نے امتحان بھی دیا اور کہتے ہیں اس امتحان کا جو نتیجہ نکلا اس سے مجھے بڑا سخت صدمہ پہنچا کیونکہ میں فیل ہو گیا۔لیکن کہتے ہیں کہ ساتھ مجھے یہ بھی پریشانی تھی کہ اگر مجھے فیل ہی ہونا تھا تو اللہ تعالیٰ نے تو امتحان سے پہلے مجھے پرچہ بھی دکھا دیا تھا کہ یہ پرچہ آئے گا اور وہ آیا بھی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بھی بڑے وثوق سے کہا تھا کہ تم پاس ہو جاؤ گے۔کہتے ہیں میرا ایمان اس بات پر بعض دفعہ متزلزل ہونے لگ جاتا تھا۔اخبارات میں نتیجہ آیا۔میں بڑا افسر وہ بیٹھا تھا۔میرے والد صاحب نے پوچھا کیا وجہ ہوئی ؟ تو میں نے وجہ بتائی تو انہوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔دوبارہ امتحان دے دینا کیونکہ فسادات کی وجہ سے پنجاب میں تیاری نہیں کر سکے ہو گے۔چند دن گزرے تو ان کے والد صاحب نے کہا کہ میں جب بھی تمہارے لئے دعا کر تا ہوں تو مجھے تو یہی آواز آتی ہے کہ بشیر احمد تو پاس ہو چکا ہے۔اور جو میں نے کالج کا نتیجہ دکھایا تو خیر خاموش ہو جاتے تھے۔پھر چند