خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 547 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 547

خطبات مسرور جلد 14 547 43 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 21 / اکتوبر 2016ء بمطابق 21 / اخاء1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الاسلام ، ٹورانٹو، کینیڈا تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج میں جماعت کے دو خادموں کا ذکر کروں گا جن کی گزشتہ دنوں وفات ہوئی ہے جن میں سے ایک مکرم بشیر احمد رفیق خان صاحب ہیں۔اور دوسری فضل عمر ہسپتال کی شعبہ گائنی کی ڈاکٹر نصرت جہاں ہیں۔جو انسان بھی دنیا میں آیا اس نے ایک دن یہاں سے رخصت ہونا ہے لیکن خوش قسمت ہوتے ہیں وہ جن کو اللہ تعالیٰ دین کی خدمت کی بھی توفیق عطا فرمائے اور انسانیت کی خدمت کی بھی توفیق عطا فرمائے۔بشیر رفیق خان صاحب پرانے، دیرینہ خادم سلسلہ مبلغ سلسلہ تھے۔پھر مختلف انتظامی کاموں میں بھی ان کو مقرر کیا گیا۔بڑی خوش اسلوبی سے اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ان کا 11/ اکتوبر 2016ء کو تقریباً 85 سال کی عمر میں لندن میں انتقال ہوا۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے بی اے (BA) کیا۔پھر شاہد کی ڈگری جامعتہ المبشرین سے 1958ء میں حاصل کی۔یہ خاندان پر انا احمدی خاندان ہے۔ان کی والدہ کا نام فاطمہ بی بی تھا جو حضرت مولوی محمد الیاس خان صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی بیٹی تھیں۔ان کے والد کا نام دانشمند خان تھا۔وہ 1890ء کے لگ بھگ پیدا ہوئے اور صاحب رؤیا و کشوف آدمی تھے۔بشیر رفیق خان صاحب پیدائشی احمدی تھے۔آپ کے والد نے 1921ء میں احمدیت قبول کی تھی جس پر گاؤں والوں نے ان کا بائیکاٹ بھی کر دیا۔ان کے والد کے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک خط بشیر خان صاحب کو لکھا تھا کہ آپ کا خط ہمیشہ آپ کے بزرگ باپ کی یاد دلا کر ان کے لئے دعا کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔قول اور فعل میں تضاد سے پاک، خلوص اور سچائی کا مجسمہ تھے۔یہ ہے وہ خصوصیت جو ایک احمدی کی، ایک مومن کی شان ہے۔لکھتے ہیں کہ مجھے ان سے گہرا تعلق تھا اور ہے اور اس کا اظہار ہمیشہ دعا کی صورت میں ہوتا