خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 32

خطبات مسرور جلد 14 32 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2016 کے گھر پہنچے اور ان کو ٹیم تیار کر کے بھجوایا۔جن صفات کا لوگوں نے ذکر کیا ہے بچوں نے بھی، غیروں نے بھی اس میں ذرا بھر بھی مبالغہ نہیں ہے۔میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں میرے خیال میں ان کے اوصاف اس سے بہت زیادہ تھے۔میرا ان سے لمبا عرصہ تعلق رہا۔شروع شروع میں جب یہ کالج میں آئے ہیں تو چند دن شاید میں ان سے کالج میں پڑھا بھی۔پھر خدام الاحمدیہ میں بھی، انصار اللہ میں بھی ان کے ساتھ کام کیا۔پھر جب مجھے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے ناظر اعلیٰ بنایا تو اس وقت بھی براہ راست ان سے بہت زیادہ واسطہ رہا۔میں نے ہمیشہ ان کو انتہائی اطاعت گزار دیکھا اور کام کرنے میں بڑا مستعد دیکھا ہے اور بڑی ذمہ داری سے کام کرتے تھے۔پھر خلافت کے بعد بھی جب بھی ان کو کوئی کام دیا انہوں نے کیا۔عاجزی انکساری ایسی تھی کہ کئی دفعہ میں نے ان کو جلسے پر یہاں بلایا جب بھی آتے تھے تو عام کارکنوں کے ساتھ بیٹھ کے دفتر میں کام کیا کرتے تھے۔کبھی یہ نہیں کہا کہ میں وہاں پرائیویٹ سیکرٹری ہوں تو یہاں مجھے علیحدہ میز کرسی ملے۔عام کارکنوں کے ساتھ بیٹھتے تھے اور معمولی معمولی کام بھی یہاں کر رہے ہوتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور رحمت اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔دوسرا جنازہ احمد شیر جوئیہ صاحب کا ہے جو حکیم صالح محمد جوئیہ صاحب کے بیٹے تھے۔بیلجیم میں رہتے تھے۔67 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔سوشل ور کر کے طور پر وہاں کام کرتے تھے۔نمازوں کے پابند، شفیق، غریب پرور، نیک اور مخلص انسان تھے۔پسماندگان میں دو بیٹیاں اور تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔ایک بیٹے اُسامہ جوئیہ جامعہ احمدیہ یو کے سے پڑھ کے اب آجکل مایوٹی(Mayotte) کے جزیرے میں مبلغ سلسلہ کی خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔یہ والد کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے کیونکہ میدان عمل میں تھے۔ڈاکٹر نے احمد شیر جوئیہ صاحب کو کینسر کی وجہ سے لا علاج قرار دے دیا تھا اور کہا تھا کہ بس چند دن ان کی زندگی کے ہیں۔عزیزم اُسامہ جوئیہ جو مبلغ سلسلہ ہیں ان دنوں میں وہ یہاں آئے ہوئے تھے اور والد کی بیماری کی وجہ سے پریشان بھی تھے۔لیکن باپ نے بیٹے کو کہا کہ تمہارا کام میدان عمل میں رہنا ہے۔تم میری بیماری کی فکر نہ کرو اور جاؤ اور جو کام جماعت کی طرف سے تمہارے سپرد کیا گیا ہے ، خلیفہ وقت کی طرف سے جو کام سپر د کیا گیا ہے اس کو سر انجام دو۔چنانچہ انہوں نے زبر دستی بھیجا اور بیٹے کے جانے کے چند دن بعد ہی ان کی وفات ہو گئی۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔عزیزم اُسامہ جوئیہ جو خدمت دین کے کام میں مصروف ہے اللہ تعالیٰ اسے بھی صبر عطا فرمائے اور پہلے سے بڑھ کر خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے اور ماں باپ کی نیک خواہشات کو پورا کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں سے جتنے بھی واقفین نکل رہے ہیں، مبلغین مربیان بڑا کام کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ عاجزی اور کام کرنے کی صلاحیتیں اور ہمت ان میں ہمیشہ قائم رہے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 29/ جنوری 2016ء تا04 فروری 2016ء جلد 23 شمارہ 05 صفحہ 05تا09)