خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 544
خطبات مسرور جلد 14 544 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2016 زیادہ تر لوگ تو ان ممالک سے یو کے (UK) کے جلسہ پر آتے ہیں لیکن کچھ لوگ یہاں بھی آئے ہوئے تھے۔پس جلسہ اس لحاظ سے بھی تبلیغ کے راستے کھولتا ہے۔بہر حال جلسہ سالانہ جہاں اپنوں کے لئے روحانی بہتری کے سامان پیدا کرتا ہے وہاں غیروں کے لئے بھی جماعتی تعارف اور تعلقات کا ذریعہ بنتا ہے۔اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کو پتا چلتی ہے۔گزشتہ کچھ عرصہ سے مسلمان ممالک کے حالات اور اس کی وجہ سے دنیا کے حالات جو سامنے آرہے ہیں اس نے میڈیا کی نظر بھی جماعت احمدیہ کی طرف پھیری ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ان لوگوں کی اس طرف توجہ دلوائی کیونکہ پہلے تو باوجود کہنے کے یہ لوگ نہیں آتے تھے۔لیکن اس کے بعد ہمارے نوجوان جو ہیں ان کا بھی بڑا کردار ہے جنہوں نے میڈیا کے ساتھ تعلقات بنائے اور رابطے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے وسیع پیمانے پر کئے۔کینیڈا کی میڈیا ٹیم میں بھی جس میں اکثریت نوجوانوں کی ہے بڑی محنت سے پر لیس اور میڈیا سے رابطوں میں اضافہ کیا ہے۔مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہاں کینیڈا میں بھی ہمارے نوجوان اس حد تک اس میں اپنا کر دار ادا کر رہے ہیں۔یہ تو یہاں آکر دیکھ کر مجھے پتا چلا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ماشاء اللہ نوجوان بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں۔اکثر لوگوں کو میں نے یہاں کام کرتے دیکھا۔تو یہ بھی ایک تبلیغ ہے جو پریس کے ذریعہ سے ہمارے نوجوان کر رہے ہیں۔ان میں بڑا جوش ہے۔بعض بڑے بڑے اخبارات اور چینل سے رابطے کرتے رہے۔بعض چینل تو بڑی اچھی رسپانس دیتے رہے۔بعض کہہ دیتے تھے کہ ہمیں مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں اس لئے ہم تمہارے جلسے کی خبریں نہیں شائع کر سکتے یا تمہارا خلیفہ اگر آئے ہیں تو ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہم کوریج کے لئے نہیں آسکتے۔بعض نوجوان اس بات سے بے چین بھی ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ بھی ان کے ایمانوں کو مضبوط کرنے کے نظارے دکھا دیتا ہے، سامان پیدا کر دیتا ہے۔مثلاً ایک اخبار یا چینل سے انہوں نے رابطہ کیا تو اس نے عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔ایک سیرین نے بھی ذکر کیا کہ میں (صحافی) لے کے آیا۔غالباً یہ وہی صحافی ٹیم تھی۔ہمارے نوجوان چاہتے تھے کہ یہ ( چینل والے) اپنا نمائندہ ضرور جلسہ پر لے کر آئیں تا کہ احمدیت کا صحیح پیغام، اسلام کا صحیح پیغام قوم کو پہنچے۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کام کرتا ہے۔اس چینل نے سیرین ریفیوجیز پر شاید کوئی ڈاکیومنٹری بنانی تھی۔جب وہ اس کے لئے سیرین ریفیوجیز کی تلاش میں نکلے تو اتفاق سے بلکہ کہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا، تقدیر ہی یہی تھی، ان کا رابطہ جن سیرین سے بھی ہو اوہ احمدی تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا جلسہ ہو رہا ہے وہاں آ جاؤ اور وہیں سب کچھ پتا چل جائے گا۔وہیں ہم بات کریں گے۔تو اس طرح اس میڈیا کو بھی جو پہلے انکار کر چکا تھا وہاں آنا پڑا۔تو بہر حال اللہ تعالیٰ بھی جماعت کا تعارف وسیع پیمانے پر کسی نہ کسی ذریعہ سے کروارہا ہے اور میڈیا کا بھی دنیا میں آجکل جو کر دار ہے اس