خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 543 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 543

خطبات مسرور جلد 14 543 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2016 ایک مہمان یہاں کے میئر ہیں وہ جماعت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہمارے لئے یہ پیغام خاص موقع ہے۔ہمیں اپنی روحانیت میں ترقی کرنی چاہئے اور سب انسانوں سے حسن سلوک کریں، یہ ہمیں پیغام ملا ہے قطع نظر اس کے کہ مذہب کیا ہے۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہئے کہ جو آپ کے خلیفہ نے سکھایا ہے کہ امن کو دنیا میں قائم کرو۔ہم سب کا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داری کو ادا کریں اور اپنا کر دار ادا کریں۔برامپٹن (Brampton) سے آئے ہوئے ایک مہمان کہتے ہیں کہ جلسہ میں مجھے صرف ایک پیغام ملا کہ امن قائم کرو۔پھر ایک مہمان نے میری آخری تقریر سنی اور کہتے ہیں کہ یہ حیران کن تھی۔میرے پاس اپنے جذبات کو بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں۔ایک خاتون ایم پی (MP) یاسمین اتنسی صاحبہ کہتی ہیں کہ خلیفہ کا پیغام، عورتوں سے خطاب بہت اچھا لگا۔خاص طور پر ایک بات کہ ایک ماں پورے خاندان کے لئے بطور بنیاد ہوتی ہے اور تمام معاشرے کو مضبوط بناتی ہے۔ایک خاتون میری لین صاحبہ کہتی ہیں کہ یہ میرانواں جلسہ ہے۔آپ کے خلیفہ کا خطاب سننے کے لئے میں بیتاب تھی۔بڑا انتظار تھا۔پھر کہتی ہیں کہ یہاں میں نے ہر ایک کو دوسرے سے ادب سے پیش آتے ہوئے دیکھا اور اس جلسہ کی اہمیت کا بھی سب کو احساس تھا۔سیکیورٹی کا انتظام بھی بہت اعلیٰ تھا، ساؤنڈ سسٹم بھی بہت اچھا کام کر رہا تھا اور ویڈیو مانیٹر بھی اعلیٰ قسم کے تھے۔ترجمہ کے لئے ہیڈ سیٹ کے استعمال کو دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی کیونکہ اس کے بغیر ہمارے جلسہ میں آنے کا مقصد پورا نہیں ہونا تھا کیونکہ جماعت احمدیہ کے امام کی پھر میں باتیں نہ سن سکتی۔کہتی ہیں ہمیشہ کی طرح آپ لوگ مہمانوں سے بڑے ادب سے پیش آتے ہیں، احترام سے پیش آتے ہیں اگر چہ ہم سب اس کے حقدار نہیں ہیں۔ہم اس بات پر آپ سب کے شکر گزار ہیں۔ہزاروں احمدیوں کو امن اور محبت میں سرشار دیکھ کر بہت اثر ہوا اور یہ منظر یورپ اور عرب میں نیگیٹیوٹی (negativity) کے برعکس تھا حاضرین جلسہ کے اتحاد کو دیکھ کر مجھے اطمینان محسوس ہوا۔جلسہ سالانہ پر جو بھی مہمان آتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا تاثر لے کر جاتے ہیں۔بیرونی ممالک سے بھی کچھ مہمان آئے ہوئے تھے۔ایک آدھ کا میں نے ذکر کیا اور بڑے اچھے تاثر لے کر گئے ہیں۔خاص طور پر یہاں سینٹرل امریکہ کے اور ساؤتھ امریکہ کے لوگ ہمارے جلسوں پر آتے ہیں اور جب جلسہ کا ماحول دیکھتے ہیں تو اسلام کے بارے میں جو ان کے غلط تصورات ہیں وہ دور ہو جاتے ہیں۔اور ان ممالک میں ہمارے مشن کیونکہ ابھی نئے نئے شروع ہوئے ہیں۔ابھی چند احمدی ہیں جنہوں نے چند سال پہلے، ایک دو تین سال پہلے بیعتیں کی ہیں اور جماعتیں بنی ہیں۔بعض مشکلات اور دقتیں بھی سامنے آتی ہیں تو بعض اعلیٰ افسران کے جلسوں پر آنے کی وجہ سے، حقیقت دیکھنے کی وجہ سے ہمیں پھر وہاں کام کرنے میں سہولت ہو جاتی ہے اور ان کا تعاون حاصل ہو جاتا ہے۔