خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 541 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 541

خطبات مسرور جلد 14 541 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2016 روحانیت ہمیشہ نظر آتی رہے۔ہم ان تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس جلسہ کے کامیاب انعقاد، تقاریر کے ترجمہ اور دیگر کاموں میں حصہ ڈالا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری روحانیت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔پھر سلمی جبولی صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ جلسہ کے نظم و ضبط اور انتظام کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جماعت ایک جسم کی طرح متحد اور ایک دوسرے کے تعاون سے عبارت ہے۔ہم ٹرانسپورٹ کے شعبہ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمیں جلسہ پر لانے اور گھر واپس چھوڑنے کا احسن رنگ میں انتظام کیا۔جلسہ میں مختلف ممالک، مختلف اقوام اور مختلف رنگوں کے افراد مل کر صرف ایک ہدف کے لئے کام کر رہے تھے اور وہ یہ کہ اسلام اور امن کا پیغام دنیا تک پہنچایا جائے۔حسین عابدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ جلسہ سالانہ میں گزارے ہوئے لمحات میری زندگی کے خوبصورت ترین لمحات ہیں۔میں ٹی وی پر مختلف جلسہ سالانہ دیکھا کرتا تھا اور دعا کرتا تھا کہ خدایا کبھی مجھے بھی خلیفہ وقت کے ساتھ جلسہ میں شرکت کی توفیق ملے لیکن میں سوچ نہیں سکتا تھا کہ میری دعا اتنی جلدی قبول ہو جائے گی اور خدا تعالیٰ مجھے اس سے بھی زیادہ عطا کرے گا جتنا میں نے مانگا تھا۔میں جلسہ سالانہ کے سٹیج کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اور ایسے میں ان مشکل ایام کی، ان اذیت ناک لمحوں کی داستان میری آنکھوں کے سامنے آرہی تھی جو کہ میں نے سخت حالات میں شام اور ترکی میں گزارے اور اس وقت میرا دل خد اتعالیٰ کی حمد سے بھر گیا اور میں نے کہا کہ ایک وہ اذیت ناک دن تھے اور ایک یہ دن ہیں کہ میں خلیفہ وقت کے سامنے بیٹھا ہوں۔یہ محض خد اتعالیٰ کا فضل ہے۔ایک سیرین دوست ہیں فراز صاحب، کہتے ہیں میں نے پہلی بار جماعت کے کسی جلسہ میں شرکت کی ہے۔اتنے لوگوں کو دیکھ کر مجھ پر تو دہشت طاری ہو گئی۔(شاید ترجمہ کرنے والے نے دہشت لفظ لکھ دیا ہے یا انہوں نے واقعی کہا تھا۔میرا یہ خیال ہے کہ اصل میں محبت کے الفاظ میں انہوں نے ذکر کیا ہے) پھر یہ لوگ صرف کینیڈا سے ہی نہیں بلکہ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے تھے۔نیز یہ کسی ایک قوم سے تعلق نہ رکھتے تھے بلکہ مختلف رنگوں اور قوموں سے ان کا تعلق تھا۔اسی طرح جلسہ میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال اور اس کے اعلیٰ انتظام اور حاضرین کا مختلف امور میں انتظامیہ کی ہدایات کا پاس کرنا اور اطاعت کا مظاہرہ کرنا نہایت ایمان افروز تھا اور جو چیز میرے لئے سب سے بڑی خوشی کا باعث ٹھہری وہ خلیفتہ المسیح کی موجودگی اور ان کے خطابات تھے جن سے میں تینوں دن مستفیض ہوا۔بہر حال یہ چند احمدی لوگوں کے تاثرات تھے جو میں نے بیان کئے۔نئے احمدی بھی اور پرانے بھی جو شام سے وہاں کے حالات کی وجہ سے ہجرت کر کے یہاں آئے ہیں۔غیروں کے بھی بعض تاثرات ہیں جو بیان کرتا ہوں۔جماعت کے تعارف اور تبلیغ کے راستے ان ذریعوں سے کھلتے ہیں۔