خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 540
خطبات مسرور جلد 14 540 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2016 پہلے بعض اپنے سیرین عرب احمدی دوستوں کے تاثرات بیان کرتا ہوں۔پہلی دفعہ ان کو اتنے بڑے جلسہ میں شامل ہونے کا اور آزادی سے عبادت کرنے کا موقع ملا کیونکہ وہاں تو پابندیاں تھیں۔جب حالات خراب نہیں تھے تب بھی وہ آزادی نہیں تھی اور حالات خراب ہونے کے بعد تو کئی سالوں سے بیچارے پس رہے تھے۔ایک احمدی دوست احمد درویش صاحب کہتے ہیں کہ یہ میرا پہلا جلسہ تھا۔کہتے ہیں جب میں جلسہ میں داخل ہوا اور خلیفہ وقت کی موجودگی دیکھی تو مجھے لگا کہ میں اسلام میں داخل ہوا ہوں۔کہتے ہیں میری زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ میری نماز خشوع و خضوع اور تضرع سے معمور ہو گئی ہے۔پس یہ وہ تبدیلی ہے جو جلسہ میں شامل ہو کے ہر احمدی میں آنی چاہئے۔صرف چند دن کے لئے نہیں بلکہ مستقل۔یہ کہتے ہیں کہ میں کینیڈین مہمان کو بھی لے کر آیا تھا، سمپسن (Simpson) نامی شخص اپنی بیوی کے ساتھ آیا تھا۔یہ شخص پہلے عیسائی تھا لیکن اب دہر یہ ہو گیا ہے۔جلسہ میں شرکت کے بعد اس نے کہا کہ میں نے محبت بھائی چارہ اور امن اور سلامتی کے بارے میں اس طرح کا مخلصانہ اور سچا کلام زندگی میں کبھی نہیں سنا اور مجھے اس طرح کے اسلام کے بارے میں جان کر بہت خوشی ہوئی۔اللہ کرے کہ یہ خوشی اس کے دل کو کھولنے کا ذریعہ بھی بن جائے۔اسی طرح ایک سیرین احمدی الحاج عبد اللہ صاحب کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے تین دن ایسے تھے جن کو زندگی بھر نہیں بھلایا جا سکتا۔دنیا کی سب سے اعلیٰ جماعت کے ہزاروں افراد کینیڈا میں اس دور میں بہترین انتظام کے ساتھ اکٹھے ہوئے تھے۔پھر کہتے ہیں جلسہ کے انتظامات، استقبال، ہر ضروری چیز کی فراوانی حتی کہ بچوں کے اچھل کود کو بھی مد نظر رکھ کر مختلف انتظامات کرنا غیر معمولی تھا۔جلسہ کا ماحول محبت اور اخوت کے جذبات سے پر تھا۔ہزاروں افراد کو بلانا اور ان کے نقل و حمل اور کھانے کا انتظام کرنا بذات خود ایک غیر معمولی امر ہے۔پھر یہ کہتے ہیں خطابات اور ان کی ترجمانی کا شعبہ بھی بہت اچھا تھا۔کہتے ہیں میں نے ایک صحافی ٹیم اور ایک مسلمان فیملی کو دعوت دی تھی۔وہ سب جلسہ کے حسن انتظام کو دیکھ کر حیران رہ گئے اور انہوں نے خصوصی طور پر جو میرا آخری دن کا خطاب تھا اس کو بڑا پسند کیا اور احمدیوں کی اپنے امام کے لئے محبت ان مہمانوں کے لئے حیران کن امر تھا۔اسی طرح عبد القادر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے پہلی بار دیکھا کہ جلسہ کا کتنا بڑا کام ہو تا ہے اور کیسے ہر کارکن اپنے شعبہ میں شہد کی مکھی کی طرح بغیر کسی شور اور مشکلات پیدا کئے کام کرتا جاتا ہے۔ہر ایک چاہتا تھا کہ اسے خدمت کا موقع دیا جائے خصوصاً جب انہیں پتا چلتا کہ میں عربی ہوں تو میرے ساتھ غیر معمولی اہتمام کے ساتھ پیش آتے تھے۔پھر ایک ریم مصطفی صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ جلسہ اتنی بڑی تعداد کے باوجود بہت زیادہ با ترتیب اور منظم تھا۔مجھے سب سے زیادہ اس روحانیت کا احساس ہوا جو لوگوں کے چہروں پر نظر آرہی تھی۔اللہ کرے کہ۔