خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 539 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 539

خطبات مسرور جلد 14 539 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2016 ہے اور پھر تیس کلو میٹر لے جانا پڑتا ہے۔پھر یہ کھانے کے ٹرک غلطی سے مردوں کے بجائے عورتوں کے حصہ میں چلے گئے جس کی وجہ سے مردوں کو تکلیف اٹھانی پڑی۔خیر مرد اگر تکلیف اٹھا لیں تو کوئی حرج نہیں۔عورتوں اور بچوں کو بھوکا نہیں رکھنا چاہئے تھا۔یہ اچھا ہو ا کہ وہاں چلا گیا۔پھر انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ کھانا تیار کرنے والے کارکنان کی کمی تھی۔اس کو پورا کر نا تو جماعت کا کام ہے۔کام کرنے والوں کی جماعت میں کوئی کمی نہیں ہے۔صرف انتظامیہ کو یہ سوچ رکھنی ہو گی کہ ہم نے خدمت کا جذبہ رکھنے والے لوگ لینے ہیں، اپنی پسند کے لوگ نہیں لینے۔اس سوچ کو بھی بدلیں اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں بہت ہیں۔جلسہ گاہ کے واش رومز میں لوگوں کو بڑا لمبا انتظار کرنا پڑا اور لوگوں کی شکایتیں بھی ہیں۔انتظامیہ نے خود بھی محسوس کیا۔بلکہ مجھے تو بعض شکایتیں پہنچی ہیں کہ صرف انتظار ہی نہیں کرنا پڑا بلکہ بعض لوگوں کو تو جن میں مریض بھی ہوتے ہیں، دوسرے بھی، بڑی تکلیف دہ صور تحال کا سامنا کرنا پڑا اور میں نے خاص طور پر ایک دن پہلے ان کو اس بارے میں پوچھا بھی تھا کہ اس کا صحیح انتظام ہے کہ نہیں۔جو مجھے بتایا گیا تھا اس کے مطابق تو مجھے لگتا ہے کہ صحیح انتظام نہیں تھا۔اب آئندہ اگر وہاں مستقل انتظام نہیں ہے تو عارضی انتظام کرنا چاہئے۔لنگر خانے میں آڈیو ویڈیو کا انتظام نہیں تھا۔یہ تو انتظامی غلطی ہے اور حالا نکہ بڑی ضروری چیز ہے کہ جو کار کن جلسہ سننے نہیں جاسکتے ان کے جلسہ سننے کا انتظام ہونا چاہئے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ مردوں کے پچھلے حصہ میں آواز صاف نہیں تھی۔لیکن جب میر ا خطبہ یا خطاب تھا تو مجھے یہ بتایا گیا کہ اس وقت میری تقریر کی آواز تو سننے میں بہتر تھی۔اگر میری اطلاع غلط ہے تو جو لوگ پیچھے بیٹھے تھے وہ مجھے بتادیں کیونکہ میرے مطابق تو پہلے آواز اچھی نہیں تھی اور پھر ہمارے بعض کارکنوں نے اس کو بہتر کرنے کی کوشش کی۔اسی طرح عربوں کے لئے ترجمہ کا انتظام تھا لیکن ان کو اطلاع نہیں کی گئی۔بعض عرب مجھے ملے اور انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن خطبہ سے محروم رہے۔اگلے دن ان کو پتا لگا۔حالانکہ یہ تو انتظامیہ کو اتنا تجربہ ہو جانا چاہئے کہ ترجمانی کے لئے بار بار مختلف زبانوں میں، جن جن زبانوں کی ترجمانی ہو رہی ہے وہاں اعلان ہو نا چاہئے کہ فلاں جگہ سے اپنی ترجمانی کی ایڈ (aid) جو ہے وہ لے لیں اور بورڈ پر بھی لکھا ہونا چاہئے، انٹر نس (enterance) پر بھی لکھا ہونا چاہئے۔اب میں بعض تاثرات مہمانوں اور اخبارات کے بیان کرتا ہوں جو پھر ہماری توجہ شکر گزاری کے مضمون کی طرف پھیرتے ہیں۔کس طرح اللہ تعالیٰ اکثر لوگوں کے دلوں میں خود ڈالتا ہے۔ہماری کوشش تو ان نتائج کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔