خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 538
خطبات مسرور جلد 14 538 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2016 وجہ سے شعبہ کے اپنے اندازے کے مطابق دو ہزار لوگوں کو کھانا نہیں ملا اور اس کی انہوں نے معذرت بھی کی لیکن مہمان بھی جلسہ سننے کے مقصد کو آئے ہوئے تھے۔اس دن یا اگلے دن بھی اگر کوئی کھانے میں کمی ہوئی تو بعض نے خوش دلی سے اسے برداشت کیا اور کوئی شکوہ نہیں کیا بلکہ بعض دوسروں کی اصلاح کا بھی باعث بن گئے۔ایک صاحب نے مجھے لکھا کہ ایک لمبا کیو (queue) کھانے کا لگا ہوا تھا، پہلے یہ کہا گیا کہ کھانا آرہا ہے ختم ہو گیا ہے لیکن کافی انتظار کے بعد انہیں پھر کہا گیا کہ کھانا ختم ہو گیا ہے اب نہیں آئے گا۔کہتے ہیں کہ میں تو اس بات پر انتظامیہ پر بڑا پیچ و تاب کھا رہا تھا، بڑے غصہ میں تھا اتنے میں ان کے آگے کھڑے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ الحمد للہ کھانا ختم ہو گیا۔میں نے کہا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ کہنے لگے کہ سوکھی روٹی کے کچھ ٹکڑے میرے پاس ہیں۔آئیں اب ہم انہیں پانی میں ڈبو کے کھالیں۔اگر کھانا مل جاتا تو یہ سنت جو تھی ہم پوری نہ کر سکتے تھے تو آج اس سنت کو بھی پورا کر لیں۔تو یہ کہنے والے مجھے لکھتے ہیں۔یہ دیکھ کر نہ صرف میرا غصہ دور ہو گیابلکہ مجھے شرمندگی بھی ہوئی کہ کیوں مجھے غصہ آیا اور اس بات پر میں بڑا جذباتی ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے کیسے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو عطا فرمائے ہوئے ہیں۔پس انتظامیہ بھی مہمانوں کی شکر گزار ہو جو ایسے اخلاق، اعلیٰ اخلاق دکھانے والے ہیں۔اس دفعہ انتظامیہ کی طرف سے یہ خوش کن پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ بجائے اپنی باتیں چھپانے کے ، اپنی کمزوریاں چھپانے کے انہوں نے اپنی کمزوریوں پر نظر رکھ کر ان کا اظہار بھی کر دیا۔لیکن صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اب اپنی لال کتاب جو جلسہ کی انتظامیہ کے پاس ہے یہ سب کچھ اس میں لکھیں اور آئندہ بہتر منصوبہ بندی بھی کریں۔ساتھ ہی میں یہ بھی بتادوں کہ یہ جگہ بظاہر اب لگ رہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اٹھارہ انیس ہزار، بیس ہزار تک لوگوں کو سنبھال سکتی ہے اس سے زیادہ نہیں۔اور اب جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھیل رہی ہے تو بڑی جگہ کا بھی انتظامیہ کو سوچنا چاہئے یا جماعت کو سوچنا چاہئے یا کم از کم اگر کبھی مجھے جلسہ پر بلانا ہو تو بہر حال یہ جگہ اب ناکافی ہے اس لئے اس بارے میں ضرور سوچیں۔انتظامیہ نے جو اپنی کمزوریوں کا خود اظہار کیا ہے وہ بھی بتا دیتا ہوں اور اس میں بعض شکایتیں مجھے پہلے پہنچ چکی تھیں اس لئے وہ صحیح بھی ہیں۔اگر اس کے علاوہ بھی کچھ ہو تو لوگ خود بھی انتظامیہ کو لکھ کر دے سکتے ہیں تاکہ بہتر انتظام ہو سکے۔پہلی بات انہوں نے یہ لکھی کہ عرب مہمانوں کے کھانے کے معیار میں شکایت ملی ہے کہ کھانے میں مرچیں زیادہ تھیں، عربوں کے مطابق نہیں تھا اس کو ٹھیک کرنا چاہئے۔پھر کھانے کی کمی کا اظہار انہوں نے کیا جو میں پہلے بتا چکا ہوں۔پھر مردوں میں کھانا ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچا۔ایک تو یہ ہے کہ فاصلہ زیادہ ہے۔کھانا یہاں پکتا