خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 537 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 537

خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2016 خطبات مسرور جلد 14 537 رہے ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے سب کارکنوں کا ہمیں شکریہ ادا کرنا چاہئے۔جہاں وہ مہمانوں کی خدمت بے نفس ہو کر کرتے ہیں وہاں ایک خاموش مبلغ بن کر احمدیت کا پیغام بھی پہنچارہے ہیں اور ہر شامل ہونے والے کو بھی جتنے لوگ شامل ہوئے جیسا کہ پہلے میں نے کہا انہیں بھی ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ان سب کارکنوں کی خدمت کے جذبہ کو ہمیشہ بڑھاتا رہے اور ان کو اس خدمت کی بہترین جزا بھی دے اور ان سب کی صرف یہ ظاہری خدمت نہ ہو بلکہ ایمان اور یقین میں بھی بڑھاتا چلا جائے اور ان کے عمل بھی بہترین ہوں جو اسلامی کے مطابق ہوں۔تعلیم اسی طرح ایم ٹی اے کے کارکنان ہیں، ان کا جہاں جلسہ میں شامل ہونے والوں یا کینیڈا میں رہنے والوں کو جو جلسہ میں شامل نہیں ہوئے شکریہ ادا کرنا چاہئے وہاں دنیا میں رہنے والے احمدیوں کو بھی شکر گزار ہونا چاہئے۔بہت سے کارکن یہاں کینیڈا کے لوکل والنٹیئر ز (volunteers) ہیں۔کچھ یہاں کام کرنے والے ہیں، کچھ لندن سے مرکز سے آئے تھے۔ان سب نے ایک کوشش سے جلسہ کے تینوں دن بڑی محنت سے جلسہ کا لائیو پروگرام دکھانے کا انتظام کیا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ لندن سے بھی ٹیم تو آتی ہے جب بھی میں جہاں جاؤں۔ایم ٹی اے کی مرکزی ٹیم آپ لنک کے لئے اس دفعہ اپنا ایک ڈش بھی ساتھ لے کر آئی تھی بجائے یہاں ہائر کرنے کے۔اس سے بڑا فائدہ بھی ہوا اور ہم وقت کے لحاظ سے آزاد بھی رہے کیونکہ جب کرائے پر لو تو وقت کی پابندی بھی کرنی پڑتی ہے۔کچھ وقت زائد ہو جائے تو زائد پیسے دینے پڑتے ہیں اور مجموعی طور پر اس لحاظ سے دس پندرہ ہزار ڈالر کی ہماری بچت بھی ہو گئی۔پس ہر شعبہ کے کارکنان نے اپنے اپنے شعبہ میں جو کام کئے ہیں ان کا افراد جماعت کو شکر گزار ہونا چاہئے۔اسی طرح کارکنان کو بھی شکر گزار ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم شکر گزار بنو میں تمہاری استعدادوں اور تمہاری صلاحیتوں کو بھی بڑھاؤں گا اور اپنی باقی نعمتیں بھی عطا کروں گا۔اللہ تعالیٰ جب آزِيدَنَّكُمْ کہتا ہے تو کسی بات کو محدود نہیں رکھتا۔اللہ تعالیٰ نوازتا ہے تو بیشمار نواز تا ہے اور ہر لحاظ سے نوازتا ہے۔پس مومنین کا یہی طریق ہے کہ ہر کامیابی پر ، ہر اچھی بات پر خدا تعالیٰ کے شکر گزار بنیں اور جہاں کمزوریاں دیکھیں وہاں اللہ تعالیٰ سے رحم ما نگیں اور استغفار کریں۔بڑے انتظامات میں کمزوریاں بھی ہوتی ہیں لیکن مہمانوں نے جو کمزوریاں نظر انداز کر کے عمومی طور پر ہر کام کی تعریف کی ہے اس کے لئے تمام کارکنان کو اپنے اور غیر سب مہمانوں کا شکر گزار ہونا چاہئے۔مثلاً کمزوریوں کا ذکر ہے تو جلسہ کے پہلے دن شعبہ مہمان نوازی نے حاضری کا صحیح اندازہ نہیں لگایا حالانکہ ایک دن پہلے مجھے بتایا تھا کہ ہم بائیس ہزار کا کھانا پکائیں گے۔اتنے لوگ ہم expect کر رہے ہیں۔جبکہ میں ہزار کا کھانا پکا جس کی