خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 536
خطبات مسرور جلد 14 536 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2016 کہتا ہوں، اس سے پہلے تو میں خود تمام کارکنوں، بچوں، مہمانوں، لڑکیوں، لڑکوں، عورتوں، مردوں کا شکر یہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کیا اور ایک خدمت کے جذبہ سے ادنیٰ سے ادنی کام بھی خوشی سے اور بڑی ذمہ داری سے سر انجام دیا۔یہ کام حقیقت میں ایک خاموش تبلیغ ہوتی ہے۔بظاہر تو یہ کار کن کام کر رہے ہوتے ہیں لیکن جو غیر آتے ہیں ان کے لئے بھی یہ تبلیغ کا ذریعہ بن جاتی ہے، کئی لوگوں کی ہدایت کا باعث بن جاتی ہے۔چنانچہ امریکہ سے آئے ہوئے ایک غیر از جماعت دوست جو بنگالی ہیں اور بنگالی احمدیوں کے ساتھ آئے تھے ، شہید الر حمن ان کا نام ہے کہتے ہیں کہ تمام زندگی ملاؤں سے جھگڑتے رہے اور جو اسلام ان کو پیش کیا گیا اس نے ان کو سنی مسجدوں سے دور رکھا۔شدت پسندی سے انہیں نفرت تھی۔ان کی بیوی ایک نیک عورت ہے۔بیوی نے انہیں تاکید کی کہ آپ جماعت احمدیہ کے جلسہ پر جائیں۔تقریباً 1 9 بنگالی امریکہ سے آئے تھے، چنانچہ اپنے بنگالی دوستوں کے ساتھ اس جلسہ پر آکر انہوں نے جماعت احمدیہ کی افراد کی تربیت، محبت اور عزت دیکھی تو وہ کہتے ہیں کہ جلسہ دیکھنے کے ساتھ میں اسلام کی طرف دوبارہ لوٹ آیا ہوں۔جلسہ کے آخری دن وہ لوگوں سے الگ ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور ہجوم کی وجہ سے انہوں نے کھانے پر جانا پسند نہیں کیا۔رش تھا۔اتنے میں ایک خادم ان کے پاس آیا اور انہیں کھانا اور پانی دیا اور پھر اس بات کا بھی انتظار کیا کہ وہ کھانا ختم کریں تاکہ وہ خادم ان کے کھانے کا ڈبہ بھی پھینک دے۔اس واقعہ نے انہیں اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے مجھے ملاقات میں بتایا کہ جلسہ نے ان پر بہت گہرا اثر کیا ہے اور انشاء اللہ وہ جلد جماعت میں داخل ہو جائیں گے۔تو اس طرح جلسہ سے تبلیغ بھی ہوتی ہے۔اور پھر یہ ہے کہ صرف ایک خادم کے اعلیٰ اخلاق اور اس کی معمولی سی خدمت کرنا ان کی سوچوں کو بدلنے والا بن گیا۔اس خادم کو تو شاید یہ بھی پتا نہیں تھا کہ وہ احمدی ہیں یا غیر احمدی۔اس نے تو ایک جذبے کے تحت خدمت کی تھی لیکن یہ خدمت اس غیر میں روحانی تبدیلی کا ذریعہ بن گئی۔اسی طرح بعض سیاسی لوگ بھی ہیں، اس علاقے کے رہنے والے لوگ بھی ہیں جو عمومی طور پر جماعت کی خدمات کو جانتے ہیں اور اس کا اعتراف بھی کرتے رہتے ہیں ان پر بھی ہر دفعہ جلسہ کے انتظامات کا ایک نیا اثر ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اور پر سکون طریق پر لوگ عموماً بیٹھے ہوتے ہیں اور کارکنان بھی خاموشی سے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ڈیب شولے (Deb Schulte) یہاں وان (Vaughan) پارلیمنٹ کے ممبر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح آج بھی میں بہت متاثر ہوا ہوں۔جلسہ پر اتنے سارے رضا کار نظر آتے ہیں جو اس جلسہ کو نہایت منظم طریق سے چلا رہے ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ میرے اندازے کے مطابق آج یہاں چھپیں ہزار سے زائد لوگ جمع ہیں اور اس لحاظ سے جلسہ کا منظم طریق پر چلنا رضا کاروں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔پس یہ رضا کار کار کن بڑا اثر ڈال