خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 535
خطبات مسرور جلد 14 535 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2016 جوان، بوڑھے ، عورتیں، مر د کام کر رہے ہوتے ہیں یہ کبھی پیدا نہ ہو سکے۔یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان سب کار کنان کے دل میں یہ جذبہ پیدا کرتا ہے کہ تم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے ہر سوچ سے بالا ہو کر، ہر خواہش سے بالا ہو کر اپنے آپ کو پیش کرنا ہے اور کام کرنا ہے اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کو پیش نظر رکھنا ہے۔پس ہمیں سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اس نے جماعت کو خدمت کرنے والے ایسے کارکن مہیا فرمائے ہیں جو باوجود پڑھے لکھے ہونے کے بے نفس ہو کر، اگر انہیں کہا جائے کہ ٹائٹلٹس کی صفائی کرو تو وہ بھی کرتے ہیں، کھانا پکانے کا کام کرو تو وہ بھی کرتے ہیں، کھانا کھلانے کا کام کرو تو وہ بھی کرتے ہیں۔سکیورٹی کی ڈیوٹیاں دیتے ہیں، پارکنگ کی ڈیوٹیاں دیتے ہیں اور اس طرح مختلف شعبہ جات میں ڈیوٹی دے رہے ہوتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا بے نفس ہو کر کام کرتے ہیں۔بچے شوق سے اپنی ڈیوٹیاں دیتے ہیں۔بچے جب جلسہ گاہ میں مہمانوں کو خاموشی اور ایک شوق سے پانی پلا رہے ہوتے ہیں تو غیر مہمان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ کیسے تم لوگ ان بچوں میں یہ خدمت کا جذبہ پیدا کر دیتے ہو۔دنیا کے ان حالات میں جب مسلمان دینی گروپ مدرسوں میں جانے والے بچوں اور نوجوانوں کو جہاد کے نام پر غلط کاموں اور ظلموں کی تربیت دے رہے ہیں، ظالمانہ طور پر انسانی جانوں کے خاتمہ کی کوشش کی جارہی ہے، زندگیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جماعت احمدیہ کے بچے اور نوجوان زندگی بخش کام کر رہے ہیں۔جب روحانی پانی پلانے اور روحانی مائدہ کھلانے کی مجلسیں لگی ہوتی ہیں تو ساتھ ساتھ بچے، نوجوان لڑکیاں، لڑکے مادی پانی پلانے اور کھانا کھلانے کے فرض کو بھی سر انجام دے رہے ہوتے ہیں اور اس حقیقی جہاد میں شامل ہو رہے ہوتے ہیں جو زندگیاں لینے کے لئے نہیں بلکہ زندگیاں دینے کے لئے کیا جاتا ہے۔چنانچہ اس بات کا اظہار بھی بعض لوگ کر دیتے ہیں کہ جب چھوٹے بچے بڑی خوشی اور ذمہ داری سے پانی پلا رہے ہوتے ہیں تو بے اختیار ان پر پیار آتا ہے۔پس جہاں ہم اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں وہاں تمام شامل ہونے والوں کو ، جلسہ میں بیٹھ کر سننے والوں کو ان کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہئے جن میں سے کئی ایسے ہیں جو جلسہ کے انتظامات کے لئے جلسہ سے پہلے بھی کام کر رہے ہیں اور بعد میں بھی وائنڈ اپ کے کام کے لئے وقت دیتے ہیں۔نہ ان کو اپنے ذاتی کاموں کے حرجوں کی پرواہ ہے ، نہ مالی نقصان کی پر واہ کرتے ہیں۔بعض مجھے ملے جنہوں نے بتایا کہ انہوں نے جلسہ کی وجہ سے ، ڈیوٹی کی وجہ سے اگر چھٹی نہیں ملی تو اپنی نوکریاں چھوڑ دیں۔نہ ہی یہ لوگ اپنی نیند اور آرام کو دیکھتے ہیں اور ایک فکر کے ساتھ یہ لوگ کام کرتے ہیں کہ ہم نے خدمت کرنی ہے اور جلسہ کے انتظامات کو جس حد تک ہو سکے بہترین کرنے کی کوشش کرنی ہے۔پس جہاں میں جلسہ میں شامل ہونے والوں سے