خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 31

خطبات مسرور جلد 14 31 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2016 نہایت اعلیٰ اخلاق کے مالک، ہمدرد، ملنسار، غرور اور نفرت سے پاک بہت عاجز انسان پایا۔آپ شوگر بلڈ پریشر اور دل کی بیماری کے باوجود پنجوقتہ نمازوں کو التزام کے ساتھ مسجد میں جا کر ادا کیا کرتے تھے۔خلافت سے انتہائی مخلص اور باوفا خدمتگار تھے۔بشیر احمد صاحب کار کن دفتر پی ایس کہتے ہیں کہ مجھے ان کے ساتھ 22 سال کام کرنے کا موقع ملا اور ہمیشہ مجھ سے پیار اور محبت سے تعاون کیا اور ہمیشہ رہنمائی فرماتے رہے۔پھر دفتر پی ایس کے ہی کار کن وسیم صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ خاکسار کا کوارٹر منگلا صاحب کے ساتھ ہی تھا۔ایک دفعہ خاکسار کی والدہ بیمار ہو گئیں تو بار بار خاکسار سے ان کی صحت کے حوالے سے دریافت کرتے رہے۔مرزا داؤد صاحب بھی کارکن پی ایس ہیں۔یہ بھی کہتے ہیں کہ 24 سال منگلا صاحب کے ساتھ کام کیا اور ہمیشہ انہوں نے بڑا اعتماد دیا اور کام کی نگرانی کی اور کام کی رہنمائی کی اور کبھی کوئی ناراض بھی ہو جاتا تو پہلے بلا کر دلجوئی کرتے۔خالد عمران حفاظت خاص کے کارکن ہیں۔کہتے ہیں کہ بیشمار خوبیوں کے مالک تھے لیکن در گزر کرنے والی صفت ان میں بہت نمایاں تھی۔کسی کارکن سے خواہ کتنے ہی ناراض ہوں لیکن اس کی معذرت پر فور أمعاف کر دیتے تھے اور دل صاف کر لیتے تھے۔ہمارے یہاں پرائیویٹ سیکرٹری میں کار کن سلیم ظفر صاحب ہیں وہ بھی کہتے ہیں منگل صاحب سے بڑا پرانا تعلق ہے اور کوئی ایسی بات مجھے یاد نہیں پڑتی کہ کبھی کسی سے ان بن ہوئی ہو یا مستقل ناراضگی ہوئی ہو۔ہمیشہ مسکراتے رہتے۔عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد لندن کہتے ہیں کہ میرا آپ سے بڑا لمبا تعلق تھا۔خدام الاحمدیہ مرکز یہ میں مختلف حیثیتوں میں اکٹھا کام کیا۔پھر بعد میں بھی رابطہ رہا۔ان کی خلافت سے محبت اور عقیدت اور احساس ذمہ داری کا وصف بہت نمایاں تھا۔کہتے ہیں جن دنوں لقاء مع العرب اور سوال وجواب کے دیگر پروگرام ریکارڈ ہوتے تھے کئی دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ان سے مختلف معلومات کے سلسلے میں رابطہ کرنے کا موقع ملتا تھا اور فوری طور پہ بڑی مستعدی سے مطلوبہ معلومات بھجوادیتے جو میں پیش کر دیا کر تا تھا۔ملک نسیم صاحب کہتے ہیں کہ یہ مہتم مقامی تھے اور میں ربوہ میں خدمت خلق کا ناظم تھا۔ایک دفعہ ایک ایکسیڈنٹ ہو گیا۔رات ساڑھے بارہ بجے یہ سائیکل پر میرے گھر آئے اور انہوں نے کہا کہ ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔فیصل آباد میں مریض ہیں۔فوری خدام کو لے کر جائیں۔میں نے کار کا انتظام کر دیا ہے۔بعض لوگوں کو خون کی ضرورت ہے ان کے لئے خون کا انتظام کریں۔کہتے ہیں سردی تھی میں نے کہا منگلا صاحب چائے پی کر جائیں۔انہوں نے کہا چائے کا وقت نہیں ہے۔لوگ اس وقت مر رہے ہیں آپ فوری وہاں پہنچیں۔اور اس وقت ان کو شدید فلو اور بخار بھی تھا اس کے باوجود احساس ذمہ واری یہ تھا کہ سائیکل پر خود ناظم خدمت خلق