خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 534 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 534

خطبات مسرور جلد 14 534 42 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 14 / اکتوبر 2016ء بمطابق 14/ اخاء1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الاسلام ، ٹورانٹو، کینیڈا تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کینیڈا کا جلسہ سالانہ گذشتہ ہفتہ منعقد ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ظاہر کرتے ہوئے اختتام کو پہنچا۔اس بات پر ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے جو ہمیں توفیق دیتا ہے کہ ہم باوجود محدود وسائل کے دنیا میں ہر جگہ جلسے منعقد کرتے ہیں اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے عمومی طور پر انتظامات بھی اچھے ہوتے ہیں۔ہمارے پاس ہر شعبہ کی پیشہ وارانہ مہارت رکھنے والے لوگ نہیں ہیں جو مختلف شعبہ جات میں کام کر کے اس کے بہتر معیار پیدا کر سکیں۔رضا کار ہیں، والنٹیئر ز ہیں ، خدام میں سے بھی، اطفال میں سے بھی، انصار میں سے بھی، لجنہ اور ناصرات میں سے بھی۔افسر بھی ان میں سے مقرر ہوتے ہیں، ماتحت بھی مقرر ہوتے ہیں۔بعض دفعہ دنیاوی تعلیم کے لحاظ سے کم پڑھا لکھا افسر مقرر کر دیا جاتا ہے تو چاہے کوئی ڈاکٹر ہو، انجنیئر ہو ، پی۔ایچ۔ڈی ہو اس کی اطاعت کرتا ہے۔کوئی یہ فرق نہیں ہوتا کہ میری تعلیم اعلی یا میرارتبہ اعلیٰ ہے۔یہ اطاعت کا معیار جماعت احمدیہ میں ہم دیکھتے ہیں۔اور ہر طرح سے پھر تعاون بھی کرتے ہیں۔نہ صرف تعاون بلکہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا پوری اطاعت کرتے ہیں اور اطاعت کرتے ہوئے اپنے جو بھی فرائض ہیں ، ڈیوٹی ہے ، خدمت ہے اس کو سر انجام دیتے ہیں۔ان تین دنوں میں خاص طور پر لگتا ہے ہر ڈیوٹی دینے والے کے دماغ سے دنیاداری کی سوچ بالکل غائب ہو گئی ہے۔صرف جلسہ اور بے نفس ہو کر کام کرنا اکثریت کی سوچ ہوتی ہے یا ان سب کارکنان کی سوچ ہوتی ہے جو اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔پس یہ کوئی انسانی کام نہیں ہے جو سوچوں کو ایسے دھارے میں ڈالتا ہو، جو عمل کو بے نفس اور عاجزی عطا کر تا ہو۔یہ خالصہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو جس جذبے سے تمام بچے،