خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 532
خطبات مسرور جلد 14 532 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2016 میدان میں ترقی کریں یہی بڑی کامیابی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی چیز موثر نہیں ہو سکتی۔اس وقت گل دنیا کے مذاہب کو دیکھ لو کہ اصل غرض تقویٰ مفقود ہے اور دنیا کی وجاہتوں کو خدا بنایا گیا ہے۔حقیقی خد ا چھپ گیا ہے اور بچے خدا کی بہتک کی جاتی ہے۔مگر اب خدا چاہتا ہے کہ وہ آپ ہی مانا جاوے اور دنیا کو اس کی معرفت ہو۔جو لوگ دنیا کو خدا سمجھتے ہیں وہ متوکل نہیں ہو سکتے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 357-358) فرمایا کہ " شدید عذاب آنے والا ہے۔" بڑا انذار فرمایا آپ نے۔" اور وہ خبیث اور طیب میں ایک امتیاز کرنے والا ہے۔وہ تمہیں فرقان عطا کرے گا جب دیکھے گا کہ تمہارے دلوں میں کسی قسم کا فرق باقی نہیں رہا۔اگر کوئی بیعت میں تو اقرار کرتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا مگر عمل سے وہ اس کی سچائی اور وفاء عہد ظاہر نہیں کر تا تو خدا کو اس کی کیا پر واہ ہے۔اگر اس طرح پر ایک نہیں سو بھی مر جائیں تو ہم یہی کہیں گے کہ اس نے اپنے اندر تبدیلی نہیں کی اور وہ سچائی اور معرفت کے نور سے جو تاریکی کو دور کرتا اور دل میں یقین اور لذت بخشتا ہے دُور رہا اور اس لئے ہلاک ہوا۔" پس دنیا کی آج بھی جو حالت ہے وہ اس فکر میں ڈالنے والی ہے کہ دنیا کا انجام کیا ہونے والا ہے۔گزشتہ دنوں ایک صاحب کہنے لگے کہ دنیا بڑی تیزی سے تباہی کی طرف جارہی ہے تو ہمارا کیا ہو گا۔تو اس کا جواب تو (ملفوظات جلد 4 صفحہ 71 حاشیہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک شعر میں بھی دے دیا ہے۔یہاں بھی تفصیل بیان کی کہ آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار ( در ثمین اردو صفحہ 154) پس یہ اصل ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کریں اور جہاں اللہ تعالیٰ کے حق ادا کریں، اس کے بندوں کے بھی حق ادا کرنے والے ہوں۔ان حسنات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے تحت حسنات ہیں اور برائیوں سے بچنے کی کوشش کریں۔ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کریں جو خدا تعالیٰ کے نزدیک برائیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کھول کر ہمیں قرآن کریم میں بیان فرما دیا ہے۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کے بعد اعتقادی اور عملی لحاظ سے مضبوط سے مضبوط تر ہونے کی کوشش کرنی چاہیئے۔یہی چیزیں ہیں جو ہماری نجات کا باعث ہیں اور یہی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بھی پسند ہیں۔ور نہ یہ پچاس سال یا پیچپتر سال یا سو سال جو بھی جماعتوں پر آتے ہیں اس انقلاب کے بغیر کوئی چیز نہیں ہیں۔دنیا والے تو بیشک ان باتوں پر خوش ہوتے ہیں لیکن دینی جماعتیں نہیں۔اگر خوشی کے اظہار اس لئے ہیں کہ ہم نے