خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 531
خطبات مسرور جلد 14 531 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2016 ہے اور اپنی ہمت اور کوشش کے موافق اس پر عمل کرتا ہے۔لیکن جو محض نام رکھا کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا وہ یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایک خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیا ہے اور کوئی آدمی جو دراصل جماعت میں نہیں ہے محض نام لکھانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔" مطلب یہ ہے کہ حقیقت میں اگر جماعت کی عمل نہیں کر رہا اور ان سب باتوں پر عمل نہیں کرتا تو فرمایا کہ " محض نام لکھانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔اس پر کوئی نہ کوئی وقت ایسا آجائے گا کہ وہ الگ ہو جائے گا۔اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کرو جو دی جاتی ہے۔اعمال پروں کی طرح ہیں۔بغیر اعمال کے انسان روحانی مدارج کے لئے پرواز نہیں کر سکتا۔" جس طرح پرندے پروں سے اڑتے ہیں، انسان کے اپنے اعمال جو ہیں وہ اس کو روحانی طور پر اڑاتے ہیں۔اور ان اعلیٰ مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتا جو ان کے نیچے اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں۔پرندوں میں فہم ہوتا ہے۔اگر وہ اس فہم سے کام نہ لیں تو جو کام اُن سے ہوتے ہیں نہ ہو سکیں۔مثلاً شہد کی مکھی میں اگر فہم نہ ہو تو وہ شہد نہیں نکال سکتی اور اسی طرح نامہ بر کبوتر جو ہوتے ہیں۔" کبوتروں کی تربیت کرتے ہیں جو خط ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کے جاتے ہیں " ان کو اپنے فہم سے کس قدر کام لینا پڑتا ہے۔کس قدر دُور دراز کی منزلیں وہ طے کرتے ہیں۔" پرانے زمانے میں اسی کو استعمال کیا جاتا تھا۔" اور خطوط کو پہنچاتے ہیں۔اسی طرح پر پرندوں سے عجیب عجیب کام لئے جاتے ہیں۔پس پہلے ضروری ہے کہ آدمی اپنے فہم سے کام لے اور سوچے کہ جو کام میں کرنے لگاہوں یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے نیچے اور اس کی رضا کے لئے ہے یا نہیں۔" پس ہر کام سے پہلے یہ سوچنا چاہئے کہ جو کام میں کرنے لگا ہوں اس کام کرنے کی مجھے دین اجازت دیتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ اس کی اجازت دیتا ہے ؟ جائز ہے کہ نہیں ہے ؟ یہ نہیں کہ دنیا کمانے کے لئے انسان ہر ناجائز طریقے کو اختیار کرنا شروع کر دے۔فرمایا کہ "جب یہ دیکھ لے اور فہم سے کام لے تو پھر ہاتھوں سے کام لینا ضروری ہو تا ہے۔سستی اور غفلت نہ کرے۔ہاں یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ تعلیم صحیح ہو۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تعلیم صحیح ہوتی ہے لیکن انسان اپنی نادانی اور جہالت سے یا کسی دوسرے کی شرارت اور غلط بیانی کی وجہ سے دھو کا میں پڑ جاتا ہے۔اسی لئے خالی الذہن ہو کر تحقیق کرنی چاہئے۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 439-440) تقویٰ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ " ہمیں جس بات پر مامور کیا ہے وہ یہی ہے کہ تقویٰ کا میدان خالی پڑا ہے۔تقویٰ ہونا چاہئے، نہ یہ کہ تلوار اٹھاؤ۔یہ حرام ہے۔اگر تم تقویٰ کرنے والے ہو گے تو ساری دنیا تمہارے ساتھ ہو گی۔پس تقویٰ پیدا کرو۔جو لوگ شراب پیتے ہیں یا جن کے مذہب کے شعائر میں شراب جزو اعظم ہے ان کو تقویٰ سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔وہ لوگ نیکی سے جنگ کر رہے ہیں۔پس اگر اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو ایسی خوش قسمت دے اور انہیں توفیق دے کہ وہ بدیوں سے جنگ کرنے والے ہوں اور تقویٰ اور طہارت کے