خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 530
خطبات مسرور جلد 14 530 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07اکتوبر 2016 مومن کو کیسا ہونا چاہئے۔اس بارے میں آپ نے فرمایا کہ " انسان اصل میں انسان سے لیا گیا ہے یعنی جس میں دو حقیقی انس ہوں " تعلق ہوں۔" ایک اللہ تعالیٰ سے اور دوسرا بنی نوع کی ہمدردی سے۔جب یہ دونوں انس اس میں پیدا ہو جاویں اُس وقت انسان کہلاتا ہے۔اور یہی وہ بات ہے جو انسان کا مغز کہلاتی ہے۔" یہی چیز ہے جو نچوڑ ہے انسانیت کا کہ دو تعلق پیدا کرو۔ایک خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرو۔ایک آپس کے حقوق ادا کرو۔فرمایا " اور اسی مقام پر انسان اولوالالباب کہلا تا ہے۔جب تک یہ نہیں، کچھ بھی نہیں۔ہزار دعوی کر دکھاؤ مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک، اس کے نبی اور فرشتوں کے نزدیک " یہ سب " بیچ ہے۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 168) پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے کام کاج اور کاروباروں سے منع تو نہیں کرتا بلکہ حکم دیتا ہے کہ سست نہ بیٹھو اور کام کرو لیکن مقصد دنیا نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔یہ ہمیشہ سامنے رہنا چاہئے۔جہاں دنیا کی نعمتوں کو حاصل کرنے کی کوشش ہو وہاں آخرت کی حسنات کے حاصل کرنے کے لئے بھی پوری کوشش کی ضرورت ہے۔اس مضمون کو بیان فرماتے ہوئے ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا تعلیم فرمائی ہے که رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرة : 202)۔اس میں بھی دنیا کو مقدم کیا ہے۔لیکن کس دنیا کو ؟ حَسَنَةُ الدُّنْیا کو جو آخرت میں حسنات کا موجب ہو جاوے۔اس دعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آ جاتا ہے کہ مومن کو دنیا کے حصول میں حَسَنَاتُ الْآخِرَة کا خیال رکھنا چاہئے اور ساتھ ہی حَسَنَةُ الدُّنْيَا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصولِ دنیا کا ذکر آگیا ہے جو ایک مومن مسلمان کو حصول دنیا کے لئے اختیار کرنی چاہئے۔دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو۔" پس دنیا کو حاصل کرنا منع نہیں لیکن اس لئے حاصل کرو اور اس طریق سے حاصل کرو کہ اس میں بھلائی ہو خوبی ہو ، نہ کہ دوسروں کو نقصان پہنچا کر ، دوسروں کے حقوق غصب کر کے ، دوسروں کے مالوں پر قبضہ کر کے۔فرمایا نہ وہ طریق جو کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسائی کا موجب ہو۔نہ ہم جنسوں میں کسی عار و شرم کا باعث۔ایسی دنیا بیشک حَسَنَةُ الْآخِرَة کا موجب ہو گی۔" (ملفوظات جلد 2 صفحہ 91-92) ایسی دنیا جو تم کماؤ گے تو یہ دنیا آخرت کے لئے بھی حسنات کا باعث بنے گی کیونکہ ایسی دنیا کمانے والے پھر اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اس کی مخلوق کی خاطر ، اس کے دین کی خاطر خرچ کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ " ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتا ہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستور العمل قرار دیتا