خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 529 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 529

خطبات مسرور جلد 14 529 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2016 بلا میں مبتلا ہو۔" اگر غفلت سے زندگی نہیں گزر رہی تو کسی بلا میں مبتلا نہیں ہو سکتے۔"کوئی بلا بغیر اذن کے نہیں آتی۔" فرمایا کہ " جیسے مجھے یہ دعا الہام ہوئی کہ رَبّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِی۔" یہ بھی دعا بہت پڑھنی چاہئے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 274 تا 276) ایک موقع پر ایک مجلس میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کی کہ حضور باہمی اتفاق اور اتحاد پر بھی کچھ فرمائیں۔اس پر آپ نے کچھ نصائح فرمائیں جن کا کچھ حصہ میں یہاں بیان کرتا ہوں۔فرمایا کہ "میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔اول خدا کی توحید اختیار کرو۔دوسرے آپس میں محبت اور ہمد ردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کر امت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی۔كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ (آل عمران: 104 )۔یادرکھو تالیف ایک اعجاز ہے۔یاد رکھو جب تک تم میں ہر ایک ایسانہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔فرمایا کہ۔۔یادر کھو بغض کا جد اہونا مہدی کی علامت ہے اور کیا وہ علامت پوری نہ ہو گی ؟" یعنی مہدی کے آنے پر آپس میں کینے اور بغض دور ہوں گے تو فرمایا کہ کیا وہ علامت پوری نہ ہو گی ؟ وہ ضرور ہو گی۔تم کیوں صبر نہیں کرتے۔جیسے طبی مسئلہ ہے کہ جب تک بعض امراض میں قلع قمع نہ کیا جاوے، مرض دفع نہیں ہوتا۔میرے وجود سے انشاء اللہ ایک صالح جماعت پید اہو گی۔باہمی عداوت کا سبب کیا ہے۔بخل ہے ، رعونت ہے، خود پسندی ہے۔" یہ صالح جماعت تو انشاء اللہ بنے گی اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے بڑے مخلصین پیدا ہو رہے ہیں۔فرمایا کہ جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے اور باہم محبت اور اخوت سے نہیں رہ سکتے جو ایسے ہیں وہ یادر کھیں کہ وہ چند روزہ مہمان ہیں۔جب تک کہ عمدہ نمونہ نہ دکھائیں۔میں کسی کے سبب سے اپنے اوپر اعتراض لینا نہیں چاہتا۔ایسا شخص جو میری جماعت میں ہو کر میرے منشاء کے موافق نہ ہو وہ خشک ٹہنی ہے۔اس کو اگر باغبان کاٹے نہیں تو کیا کرے۔خشک ٹہنی دوسری سبز شاخ کے ساتھ رہ کر پانی تو چوستی ہے مگر وہ اس کو سر سبز نہیں کر سکتا بلکہ وہ شاخ دوسری کو بھی لے بیٹھتی ہے۔پس ڈرو میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا۔" " (ملفوظات جلد 2 صفحہ 48-49) پس وہ لوگ جو آپس میں رنجشوں کو بڑھاتے ہیں ان کے لئے بڑے خوف کا مقام ہے۔جب ہم نے اس زمانے میں اس شخص کو مانا ہے جو ہماری اصلاح کے لئے آیا ہے تو پھر ہمیں اس کے لئے کوشش بھی کرنے کی ضرورت ہے۔اس کی باتوں کو بھی ماننے کی ضرورت ہے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔انسانیت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہ انسانیت کیا ہے اور انسانیت کے معیار کیا ہیں اور ایک