خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 528 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 528

خطبات مسرور جلد 14 ہے۔" 528 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2016 فرمایا کہ نیک بنو۔متقی بنو۔۔۔یہ وقت دعاؤں سے گزارو۔" پھر مزید نصیحت فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ " قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عمل صالح بھی رکھا ہے۔عمل صالح اسے کہتے ہیں جس میں ایک ذرہ بھر فساد نہ ہو۔یاد رکھو کہ انسان کے عمل پر ہمیشہ چور پڑا کرتے ہیں۔وہ کیا ہیں۔ریا کاری (کہ جب انسان دکھاوے کے لئے ایک عمل کرتا ہے۔) عجب ( کہ وہ عمل کر کے اپنے نفس میں خوش ہوتا ہے) کہ میں نے بڑا نیکی کا کام کر دیا اور قسم قسم کی بدکاریاں اور گناہ جو اس سے صادر ہوتے ہیں ان سے اعمال باطل ہو جاتے ہیں۔عمل صالح وہ ہے جس میں ظلم، عجب، ریا، تکبر اور حقوق انسانی کے تلف کرنے کا خیال تک نہ ہو۔" فرمایا کہ " جیسے آخرت میں انسان عمل صالح سے بچتا ہے ویسے ہی دنیا میں بھی بچتا ہے۔اگر ایک آدمی بھی گھر بھر میں عمل صالح والا ہو تو سب گھر بچارہتا ہے۔سمجھ لو کہ جب تک تم میں عمل صالح نہ ہو، صرف مانا فائدہ نہیں کرتا۔ایک طبیب نسخہ لکھ کر دیتا ہے تو اس سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ لے کر اسے پیوے۔اگر وہ ان دواؤں کو استعمال نہ کرے اور نسخہ لے کر رکھ چھوڑے تو اسے کیا فائدہ ہو گا۔" فرماتے ہیں کہ اب اس وقت تم نے تو بہ کی ہے۔اب آئندہ خدا تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس تو بہ سے اپنے آپ کو تم نے کتنا صاف کیا۔اب زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ تقویٰ کے ذریعہ سے فرق کرنا چاہتا ہے۔بہت لوگ ہیں کہ خدا پر شکوہ کرتے ہیں اور اپنے نفس کو نہیں دیکھتے۔انسان کے اپنے نفس کے ظلم ہی ہوتے ہیں ورنہ خدا تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔" جو کچھ انسان اگر بعض نقصانات اٹھاتا ہے تو اپنے نفس کی وجہ سے اٹھاتا ہے۔اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے۔اللہ تعالی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔وہ تو بڑار حیم اور کریم ہے۔فرمایا کہ " بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبر ہوتی ہے اور بعض ایسے کہ ان کو گناہ کی خبر بھی نہیں ہوتی۔" وہ اتنے عادی ہو جاتے ہیں۔" اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے استغفار کا التزام کرایا ہے۔' پس استغفار بہت زیادہ کرنی چاہئے اور خاص طور پر ان دنوں میں جب آپ دعائیں کر رہے ہوں۔جلسہ کا ماحول ہی دعاؤں کا ہے تو جہاں درود پڑھ رہے ہیں وہاں استغفار بھی بہت زیادہ کریں۔فرمایا کہ انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو خواہ باطن کا، خواہ اسے علم ہو یا نہ ہو اور ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے۔آجکل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہیے۔رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخسِرِينَ (الاعراف: 24) " کہ اے ہمارے رب !ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تُو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔فرماتے ہیں یہ دعا اوّل ہی قبول ہو چکی ہے۔" جب سے یہ دعا اللہ تعالیٰ نے سکھائی اس وقت سے یہ قبول ہو گئی۔"غفلت سے زندگی بسر مت کرو۔" یہ دعا سکھائی ہی اس لئے ہے کہ قبول کی جائے۔پس سنجیدگی سے یہ دعا کرنی چاہئے۔فرمایا کہ غفلت سے زندگی بسر مت کرو۔جو شخص غفلت سے زندگی نہیں گزار تا ہر گز امید نہیں کہ وہ کسی فوق الطاقت "