خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 527
خطبات مسرور جلد 14 527 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2016 پھر ایک موقع پر بیعت کے معیار کے بارے میں مزید کھول کر فرمایا کہ: " اسی طرح جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا اس کو ٹٹولنا چاہئے کہ کیا میں چھلکا ہی ہوں یا مغز ؟ جب تک مغز پیدا نہ ہو ایمان، محبت، اطاعت، بیعت، اعتقاد، مریدی، اسلام کا مدعی سچاند عی نہیں ہے۔یادرکھو کہ یہ سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مغز کے سوا چھلکے کی کچھ بھی قیمت نہیں۔خوب یاد رکھو کہ معلوم نہیں موت کس وقت آجاوے۔لیکن یہ یقینی امر ہے کہ موت ضرور ہے۔پس نرے دعویٰ پر ہر گز کفایت نہ کرو اور خوش نہ ہو جاؤ۔وہ ہر گز ہر گز فائدہ رساں چیز نہیں۔جب تک انسان اپنے آپ پر بہت موتیں وارد نہ کرے اور بہت سی تبدیلیوں اور انقلابات میں سے ہو کر نہ نکلے وہ انسانیت کے اصل مقصد کو نہیں پاسکتا۔" (ملفوظات جلد 2 صفحہ 167) یہ موتیں کیا ہیں ؟ یہ دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے۔دنیا کی چکا چوند سامنے ہے۔قدم قدم پر یہاں ان ملکوں میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے راستے سے ہٹانے کی کوشش میں دنیاوی سامان کئے گئے ہیں ان سے بچنا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " اب دنیا کی حالت کو دیکھو کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے عمل سے یہ دکھایا کہ میرا مرنا اور جینا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور یا اب دنیا میں مسلمان موجود ہیں۔کسی سے کہا جاوے کہ کیا تو مسلمان ہے؟ تو کہتا ہے الحمد للہ۔جس کا کلمہ پڑھتا ہے اس کی زندگی کا اصول تو خدا کے لئے تھا مگر یہ دنیا کے لئے جیتا اور دنیا ہی کے لئے مرتا ہے اس وقت تک کہ غرغرہ شروع ہو جاوے۔"آخری وقت پہنچ جاوے، سانس نکلنے لگے۔فرمایا کہ۔۔۔نام اور چھلکے پر خوش ہو جانا دانشمند کا کام نہیں ہے۔کسی یہودی کو ایک مسلمان نے کہا کہ تو مسلمان ہو جا۔اس نے کہا تو صرف نام ہی پر خوش نہ ہو جا کہ تو مسلمان ہے۔یہودی نے اسے کہا کہ "میں نے اپنے لڑکے کا نام خالد رکھا تھا اور شام سے پہلے ہی اُسے دفن کر آیا۔" خالد نام رکھنے سے ہمیشگی تو نہیں مل گئی۔اس کی عمر لمبی تو نہیں ہو گئی۔کہتا ہے شام کو بیچارہ بچہ فوت ہو گیا اور میں دفن کر آیا۔فرماتے ہیں کہ " پس حقیقت کو طلب کرو۔نرے ناموں پر راضی نہ ہو جاؤ۔کس قدر شرم کی بات ہے کہ انسان عظیم الشان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی کہلا کر کافروں کی سی زندگی بسر کرے۔تم اپنی زندگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ دکھاؤ۔وہی حالت پیدا کرو۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 187) ایک دفعہ چند اشخاص آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر بیعت بھی کر لی۔بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں کچھ نصائح فرمائیں۔آپ نے فرمایا کہ: " آدمی کو بیعت کر کے صرف یہی نہ ماننا چاہئے کہ یہ سلسلہ حق ہے اور اتناماننے سے اسے برکت ہوتی