خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 526
خطبات مسرور جلد 14 526 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2016 شاید بعض لوگ صرف جلسہ پر تو آگئے لیکن پوری توجہ سے نہ سن رہے ہوں۔بعض سفر کی وجہ سے تھکے ہوئے ہوں گے شاید اونگھ بھی رہے ہوں ان سب کو میں کہتا ہوں کہ یہ باتیں میں جو بیان کرنے لگاہوں ان کو غور سے سنیں اور اس وقت توجہ سے اپنے ہوش و حواس کو قائم رکھتے ہوئے بیٹھنے کی کوشش کریں۔آدھا گھنٹہ یا چالیس منٹ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آدمی برداشت نہ کر سکے۔اور جلسہ پر آنے کا مقصد تبھی پورا ہو گا جب آپ یہ باتیں بھی سنیں جو میں کہہ رہا ہوں اور وہ تمام باتیں بھی غور سے سنیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں جو باقی مقررین اپنی تقریروں میں بیان کریں گے۔بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ایمان کو بڑھانے والی بھی ہیں، روحانیت میں ترقی دینے والی بھی ہیں۔اور وقتی طور پر صرف نعرے لگا کر ان سے حظ نہ اٹھائیں بلکہ پھر انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بھی بنائیں۔جیسا کہ میں نے کہا میں چند باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں بیان کروں گا تا کہ آپ علیہ السلام کا کلام براہ راست کانوں میں پڑے اور دل و دماغ میں اترے اور وہ روحانی تبدیلی پیدا ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے چاہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " میں نے بارہا اپنی جماعت کو کہا ہے کہ تم نے اس بیعت پر ہی بھروسہ نہ کرنا۔اس کی حقیقت تک جب تک نہ پہنچو گے تب تک نجات نہیں۔" فرمایا " قشر پر صبر کرنے والا مغز سے محروم ہو تا ہے۔" یعنی اگر تم صرف اس بات پر خوش ہو جاؤ کہ مجھے پھل کا چھلکا یا خول مل گیا ہے تو یہ چیز بے فائدہ چیز ہے۔اصل پھل سے تو تم محروم رہ جاؤ گے۔عقلمند وہی ہے جو پھل حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے نہ کہ صرف چھلکا۔پھر آپ نے فرمایا کہ "اگر مرید خود عامل نہیں تو پیر کی بزرگی اسے کچھ فائدہ نہیں دیتی۔یعنی اگر بیعت میں آئے ہو اور اپنی عملی حالت درست نہیں کرتے۔صرف اس بات پر خوش ہو کہ میں نے جس کو مانا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے فرستادے کی بزرگی اپنی جگہ بیشک حق ہے ، ٹھیک ہے لیکن ماننے والے کو فائدہ اس بزرگی سے تبھی ہو گا جب اس کا عمل بھی اس بزرگی سے مطابقت رکھتا ہو گا، اس کے کہنے کے مطابق ہو گا۔آپ نے فرمایا " جب کوئی طبیب کسی کو نسخہ دے اور وہ نسخہ لے کر طاق میں رکھ دے تو اسے ہر گز فائدہ نہ ہو گا کیونکہ فائدہ تو اس پر لکھے ہوئے عمل کا نتیجہ تھا۔"جو نسخہ دیا گیا ہے اس کے مطابق دوائی بناؤ یا وہ دوائی خرید و پھر استعمال کرو تبھی تو فائدہ ہو گا۔فرمایا کہ " جس سے وہ خود محروم ہے۔" یعنی خود ہی نسخہ تو لے لیا لیکن عمل نہ کر کے ، اس کا استعمال نہ کر کے اپنے آپ کو محروم کر دیا۔فرما یا کشتی نوح کا بار بار مطالعہ کرو اور اس کے مطابق اپنے آپ کو بناؤ۔" اور پھر آپ فرماتے ہیں "قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا " (الشمس: 10)۔یعنی یقیناوہ کامیاب ہو گیا جس نے تقویٰ کو پروان چڑھایا۔فرمایا " یوں تو ہزاروں چور، زانی، بدکار، شرابی، بد معاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کیا وہ در حقیقت ایسے ہیں ؟ ہر گز نہیں امتی وہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر پورا کار بند ہے۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 232-233)