خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 525 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 525

خطبات مسرور جلد 14 525 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2016 آتے ہیں۔اس سال اس وجہ سے ، میرے آنے کی وجہ سے بیرونی ممالک سے بھی کافی لوگ آئے ہوں گے اور آرہے ہوں گے۔بہر حال اس سال کو آپ لوگ یہاں کے رہنے والے احمد کی خاص اہمیت دے رہے ہیں۔لیکن ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس کی اہمیت تو تبھی ہو گی جب ہر احمدی جو کینیڈا میں رہتا ہے اس بات کی کوشش کرے کہ ہم نے احمدی ہونے کے بعد جو عہد بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے باندھا ہے اسے ہم نے پورا کرنا ہے۔جو توقعات آپ علیہ السلام نے ہم سے رکھی ہیں ان پر پورا اترنا ہے۔ورنہ پچاس سال ہوں یا اس سے زیادہ سال ہوں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ پاکستان کے حالات کی وجہ سے بہت سے احمدی بھی پاکستان سے ہجرت کر کے دوسرے ممالک میں گئے اور آپ میں سے اکثریت اس ہجرت کے نتیجہ میں یہاں آئی ہے۔آپ نے دینی آزادی کے حصول کے لئے ہجرت کی ہے اور یہاں کی حکومت نے آپ کو اس لئے یہاں کی شہریت دی تاکہ آپ آزادی سے اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل کر سکیں۔پس یہاں کے رہنے والے ہر احمدی کی علاوہ اس عہد کے جو وہ کرتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔کو ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 70) ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ جس مقصد کے لئے ہجرت کی اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اپنی نسلوں کو بتائیں کہ ہم پاکستان میں ایسے حالات سے آئے اور یہاں جو حالات بہتر ہوئے ہیں وہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کا حقیقی شکر گزار بندہ بنتے ہوئے اس کے احکامات پر عمل کرنے والے بنیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیعت کے وقت بھی ہم نے جو عہد کیا ہے اسے پورا کریں جس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں قرآن کریم کی حکومت کو بکلی اپنے اوپر لاگو کروں گا۔(ماخوذ از ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) اس زمانہ میں جس جامع رنگ میں یہ تمام باتیں اور جو احکامات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے رکھے ہیں اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ آپ علیہ السلام سے بہتر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام اور باتوں کو اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔آپ علیہ السلام نے جس نہج پر رہنمائی فرمائی ہے اسی کو اختیار کر کے ہم دینی احکامات اور اللہ تعالیٰ کے کلام پر مزید غور کر کے اپنے ذہنوں کو روشن اور اپنے ایمانوں کو پختہ کر سکتے ہیں۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں بے شمار نصائح فرمائیں جو علم و عمل میں پختہ کرنے کے لئے ضروری ہیں۔آپ علیہ السلام ہم سے بیعت لینے کے بعد ہمارا ایک معیار دیکھنا چاہتے ہیں۔جلسوں کا مقصد بھی یہی معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔پس اس بات کو ہمیشہ ہر احمدی کو سامنے رکھنا چاہئے۔اس وقت