خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 30
خطبات مسرور جلد 14 30 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2016 کی خدمات سر انجام دیتے رہے۔جب خلیفہ المسیح الرابع لندن آئے ہیں تو اس وقت آپ کو تقریباً ایک سال یہاں لندن میں بھی پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔1982ء سے وفات تک سیکرٹری مجلس شوریٰ پاکستان کے طور پر ان کو خدمت کی توفیق ملی۔68ء سے 83 ء تک مجلس خدام الاحمدیہ میں مختلف عہدوں پر کام کیا۔86ء سے 2015ء تک انصار اللہ میں مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی اور اس وقت نائب صدر تھے۔آپ کی اہلیہ اور چھے بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی صبر دے اور ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق دے۔ان کے ایک بیٹے محمد نیر منگلا مربی سلسلہ ربوہ میں ریسرچ سیل میں ہیں۔دوسرے عتیق منگلا واقف تو ہیں اور میڈیکل لیب (Lab) ٹیکنیشن ہیں۔ان کے داماد کہتے ہیں کہ آپ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے اور ہر قسم کی پریشانی کا بڑی ہمت کے ساتھ خود ہی مقابلہ کرنے والے تھے اور کبھی بھی آپ کی زبان سے کسی بھی دکھ یا تکلیف کا اظہار میں نے نہیں سنا۔ساری زندگی خدمت دین کے لئے وقف تھی۔صبح شام دن رات تمام وقت جماعت کے کاموں میں مصروف رہتے تھے اور حقیقت میں انہوں نے وقف کا حق ادا کیا۔یہ میں نے خود بھی ان کو دیکھا ہے۔ان کے بیٹے نیر احمد کہتے ہیں کہ تہجد کے لئے خود بھی بیدار ہوتے اور گھر والوں کو بھی اس کی تلقین کرتے اور بڑے سوز و گداز سے دعائیں کرنے والے تھے۔باجماعت نمازوں پر جاتے ہوئے بچوں کو ساتھ لے کر جاتے۔ان کی بیٹی عابدہ کہتی ہیں کہ خدا پر بہت تو کل تھا۔بہت باہمت اور بلند حوصلہ کے مالک تھے۔کوئی بھی مشکل ہوتی کبھی بھی چہرے اور زبان سے ظاہر نہ کرتے بلکہ خدا کے حضور روتے اور گڑگڑاتے اور خلیفہ وقت کی خدمت میں دعا کے لئے تحریر فرماتے اور خواہ کوئی بڑی بات ہو یا معمولی بات ہمیشہ خلیفہ وقت سے مشورہ لیتے۔غریب رشتہ داروں کا بہت خیال رکھتے۔بہو کہتی ہیں کہ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔بڑے دھیمے مزاج کے ، بہت مہمان نواز ، ملنسار تھے۔کبھی دفتر کی بات گھر میں آکر نہیں کی بلکہ باہر سے اگر ہمیں کوئی بات پتا لگ جاتی تو کہتے اچھا تم نے یہ سنی ہے تو مجھے بھی بتادو اور انہوں نے کوئی ایسا معاملہ جو دفتری ہو گھر آکے کبھی ڈسکس (Discuss) نہیں کیا۔ان کی بہو اسلم بھروانہ صاحب شہید کی بیٹی ہیں۔کہتی ہیں میرے والد کی شہادت کے بعد تو اور بھی زیادہ میرا خیال رکھا اور بہوؤں کو ہمیشہ ایک مقام دیا۔گھر میں کوئی مسئلہ ہوتا تو بہوؤں کی رائے بھی لی جاتی۔اصل میں گھروں کو جنت نظیر بنانے کا یہ صحیح طریقہ ہے۔ان کے بھتیجے کہتے ہیں کہ ہمیشہ جماعت اور خلافت کے لئے ان کا ہر لمحہ قربان ہوتے دیکھا اور خلافت سے بڑا پیار کا تعلق تھا۔ڈاکٹر مسعود الحسن نوری صاحب لکھتے ہیں کہ آٹھ سال سے مکرم منگلا صاحب کی بعض خوبیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ان خوبیوں میں سے نمایاں پہلو جو نظر آئے ہیں وہ یہ ہیں کہ میں نے انہیں منکسر المزاج،