خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 524
خطبات مسرور جلد 14 524 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2016 فضل ہے کہ اس سے خبر پا کر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ کے بعد قدرت ثانیہ کا نظام جاری ہو اجو خلافت کا نظام ہے۔پس وہ جاری ہوا اور خلافت احمدیہ کے ذریعہ آپ علیہ السلام کے مشن کی تکمیل کا کام جاری و ساری ہے۔جلسوں کا سلسلہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد خلافت کا نظام جب جاری ہوا تو خلافت کی موجودگی میں تقریباً چالیس سال تک جلسے منعقد ہوتے رہے۔پھر خلافت کے پاکستان ہجرت کر جانے کے بعد ربوہ میں جلسے منعقد ہوتے رہے اور ساتھ ہی جماعت کی وسعت ملکوں ملکوں میں ہونے لگی۔گو کہ بیرونی مشن قادیان سے ہجرت سے پہلے بھی قائم ہونے شروع ہو گئے تھے۔خاص طور پر افریقہ میں بڑی مضبوط جماعتیں قائم ہونے لگ گئی تھیں لیکن مزید مضبوطی اور وسعت ہر آنے والے دن اور مہینے اور سال میں بیرون پاکستان جماعتوں میں ہوتی رہی یہاں تک کہ دشمن نے اس ترقی کو دیکھ کر احمدیوں کے خلاف نہایت ظالمانہ قانون حکومت کے ذریعہ سے جاری کروایا جس کی وجہ سے خلیفہ وقت کو وہاں سے ہجرت کرنی پڑی اور ساتھ ہی وہاں سے احمدیوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی ہجرت کی۔خلیفہ المسیح الرابع کے لندن ہجرت کر جانے کے بعد جہاں لندن کے جلسوں نے ایک نیا موڑ لیا اور وسعت اختیار کی وہاں دوسرے ممالک میں بھی جلسوں میں ایک نیارنگ پیدا ہوا اور پھر جس میں روز بروز ترقی ہوتی چلی گئی اور آج ہر جگہ جلسوں کے ایک نئے رنگ ہیں۔یہ تو اب ممکن نہیں کہ احمدیوں کی ایک بڑی تعداد جلسے کے لئے قادیان جائے ، نہ ہی یہ ممکن ہے کہ جہاں خلیفہ وقت موجود ہے وہاں احمدیوں کی بڑی تعداد جلسہ میں شامل ہو سکے۔دنیا میں جس طرح جماعتیں پھیل رہی ہیں اور ترقی کر رہی ہیں ضروری تھا کہ ہر ملک میں جہاں بھی جماعت ہے اس نہج پر جلسے منعقد کئے جائیں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ہوتے تھے۔سال میں کم از کم ایک مرتبہ آپ علیہ السلام نے ہمیں اپنی حالتوں میں تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے تربیتی مقصد کے لئے جمع ہونے کا فرمایا تھا۔پس آپ بھی آج یہاں اس لئے جمع ہیں کہ اس مقصد کو پورا کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا تھا۔ہر سال آپ اس مقصد کے لئے جمع ہوتے ہیں اور اس سال خاص طور پر آپ اس لئے یہاں جمع ہوئے ہیں کہ جماعت کے قیام کے پچاس سال پورے ہو گئے ہیں۔بعضوں کو شاید اس سے اختلاف بھی ہو گا لیکن کوئی نہ کوئی معیار مقرر کرنا پڑتا ہے۔تو جب سے جماعت کی رجسٹریشن ہوئی ہے اس کو معیار مقرر کر کے پچاس سال گنے جاتے ہیں ورنہ کہا جاتا ہے کہ پہلے احمدی تو شاید یہاں 1919ء میں ہی آگئے تھے۔تو بہر حال جماعت اس سال اس ملک میں اپنے قیام کے پچاس سال منارہی ہے اور اسی وجہ سے امیر صاحب نے خاص طور پر زور دے کر مجھے بھی بلایا کہ جماعت کینیڈا اس سال پچاس سال کے حوالے سے مختلف فنکشنز بھی کر رہی ہے اور اس لحاظ سے امید ہے کہ یہ جلسہ بھی بڑا ہو گا اس لئے آئیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ جب خلیفہ وقت کی موجودگی ہو تو لوگ بھی زیادہ