خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 523
خطبات مسرور جلد 14 523 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2016 اور آپ کی زندگی کیا تھی؟ اس کی معرفت کس طرح حاصل ہو ؟ اس کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جواب ہر تفصیل پر حاوی ہے جو آپ نے ایک سوال کرنے والے کو دیا تھا۔جب اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور سیرت کے بارے میں پوچھا تو حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ پس جو قرآن کہتا ہے وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی اور ہر عمل کی تفصیل ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد8 صفحه 144-145 مسند حضرت عائشہ حديث 25108 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ وہ معرفت ہے جو ایک مومن کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس کے لئے قرآن کریم کو پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جلسہ کا یہ مقصد ہے کہ روحانیت میں ترقی ہو۔جب معرفت حاصل ہو جائے تو صرف علمی حظ تک ہی یہ معرفت نہ رہے بلکہ اس کو روحانیت میں اور عمل میں ترقی کا ذریعہ بننا چاہئے۔اگر روحانیت میں ترقی نہیں تو جلسہ میں شمولیت بے فائدہ ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ جلسہ کا ایک فائدہ یہ ہے اور اس کے لئے ہر آنے والے کو کوشش کرنی چاہئے کہ آپس کا تعارف بڑھے اور صرف تعارف حاصل کر کے دنیا داروں کی طرح وقتی تعلق نہ ہو بلکہ ہر احمدی کو دوسرے احمدی کے ساتھ محبت اور بھائی چارے کے تعلق میں ترقی کرنی چاہئے اور یہ تعلق اتنا مضبوط اور مستحکم ہو جائے کہ کوئی بات اس تعلق میں رخنہ نہ ڈال سکے ، اس کو توڑ نہ سکے۔(ماخوذ از آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 352) پھر آپ نے فرمایا کہ تقویٰ میں ترقی کرو۔(ماخوذ از شہادۃ القرآن۔روحانی خزائن جلد 6صفحہ 394) یہ جلسہ کے مقاصد میں سے بہت اہم ہے۔اس کے بغیر ایک مومن حقیقی مومن نہیں بن سکتا اور تقویٰ یہی ہے کہ جو علم حاصل کیا، جو روحانیت کا معیار حاصل کیا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے جو محبت کا تعلق قائم کیا ہے، آپس کے تعلقات میں جو خوبصورتی پیدا کی ہے اس میں اب دوام پیدا کرو۔اسے باقاعدہ رکھو۔اسے با قاعدہ اپنی زندگیوں کا حصہ بناؤ۔پس یہ وہ باتیں تھیں جس کے لئے آپ علیہ السلام نے جلسہ کا انعقاد فرمایا اور فرمایا کہ ہر سال لوگ اس مقصد کے لئے قادیان آیا کریں۔کتنے بابرکت جلسے ہوتے تھے وہ جن میں خود حضرت مسیح پاک علیہ السلام شامل ہو کر براہ راست جماعت کو نصائح فرمایا کرتے تھے۔افراد جماعت کی تربیت فرمایا کرتے تھے۔ان کی روحانی پیاس بجھایا کرتے تھے۔آپ علیہ السلام کے بعد وہ باتیں تو نہیں ہو سکتیں۔نبی کا مقام تو اسی کے لئے خاص ہو تا ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آیا، جو خدا تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آیا، جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں احیائے دین کے لئے بھیجا یقیناوہ اپنا ایک مقام رکھتا تھا۔لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کا