خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 520 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 520

خطبات مسرور جلد 14 520 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2016 چندے دینے کا بڑا اہتمام کرتا۔ہر چیز میں ترتیب تھی۔اپنے وقت کو بڑی عقل مندی سے تقسیم کرنے والا تھا۔جامعہ کی روزانہ کی تدریس کے علاوہ ان کی یہ روٹین تھی کہ قرآن کریم کی باقاعدگی سے تلاوت کرے۔پھر جماعتی کتب کا کچھ مطالعہ کرے۔پھر خواہ کیسا ہی موسم ہو ہر روز ورزش کرے۔باقاعدگی سے اخبار کا مطالعہ کرے اور پھر دوپہر کو کچھ آرام بھی کرے جو صرف چند منٹ کا ہو اور پھر سونے سے پہلے باقاعدگی سے ڈائری لکھنا۔یہ تھیں اس کی خصوصیات۔اور خطبہ جمعہ کے با قاعدہ نوٹس لیتا اور پھر خطبہ کے پوائنٹس کو اپنے دوستوں میں ڈسکس (discuss) کرتا۔یہ کہتے ہیں کہ خلافت احمدیہ اور جماعت احمدیہ کے بچے فدائی تھے اور کبھی خلیفہ وقت یا نظام جماعت کے خلاف کوئی بات برداشت نہ کرتے۔ہر تحریک پر لبیک کہتے اور دوسروں کو بھی یاد دہانی کراتے۔اپنے آپ کو خلیفہ وقت کے سپاہی سمجھتے اور یقینا تھے۔اکثر کہا کرتے تھے کہ خلافت کے لئے میں جان قربان کرنے کے لئے تیار ہوں اور پھر وہ صرف الفاظ نہیں ہوتے تھے بلکہ جذبات ظاہر کر رہے ہوتے تھے کہ یہ حقیقت میں وہی کچھ کرنے والا ہے جو کہہ رہا ہے۔کینسر تشخیص ہوا تو ان کے دوست کہتے ہیں کہ ہمیں حوصلہ دلایا کہ پریشان مت ہو۔بس خدا کے آگے جھکو۔خدا تعالیٰ پر ایمان اور توکل بہت پختہ تھا۔اپنی بیماری کو اپنے اوپر ایک آزمائش سمجھ کر قبول کیا۔کسی کے آگے پریشانی یا تکلیف کا اظہار انہوں نے کبھی نہیں کیا۔ان کے ایک دوست مربی شرجیل لکھتے ہیں۔نہایت اعلیٰ اخلاق والے اور پیارے دوست تھے۔بہت سی خوبیوں کے مالک، خیال رکھنے والے، خلافت کے مقام کا حقیقی طور پر ادراک رکھنے والے، توکل علی اللہ بہت مضبوط تھا۔جماعت کے لئے سب کچھ قربان کرنے والے تھے۔ایک فدائی تھے۔کبھی کسی کو تکلیف یا نقصان نہ پہنچاتے۔ہر وقت مسکراتے رہتے۔کوئی انہیں کتنا ہی تنگ کرتا کبھی غصہ نہیں دکھاتے ، کبھی جوش میں نہیں آتے۔کبھی فضول باتیں نہیں کیں۔لغو باتوں سے اجتناب کرتے۔آج تک کبھی انہیں برے الفاظ یا بد گوئی کرتے نہیں دیکھا۔ہر وقت ہر کام کو بڑے صبر اور حوصلہ سے اور بڑی لگن اور محنت سے اور بڑی ذمہ داری سے کرتے۔کبھی کسی کام کو چھوٹا نہیں سمجھتے تھے۔ہر ایک کی مدد کرتے۔ستی کا ان میں نام و نشان بھی نہیں تھا۔جامعہ سے بہت محبت تھی۔قوت ارادی بہت مضبوط تھی۔تکلیف کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور آخر وقت تک بڑی ہمت سے اپنی بیماری کو بھی برداشت کیا۔یہ کہتے ہیں کہ کبھی کسی کا مذاق نہیں اڑا یا بلکہ لوگوں کو اس سے روکتے۔ان میں وہ اوصاف تھے جو ایک مربی میں پائے جاتے ہیں۔ان کے دوست لڑکے تو یہ کہتے ہیں کہ ممہدہ سے ہی کامل مربی تھے۔تقویٰ کی باریک ا پر چلنے والے تھے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنے والے تھے کہ میری trimmer کی آواز بھی اونچی ہے اس لئے جب لوگ سوئے ہوتے ہیں تو میں trim نہیں کرتا۔کسی قسم کا تصنع نہیں تھا۔جیسے اندر سے تھے ویسے ہی باہر تھے۔قول و فعل میں مطابقت تھی۔قرآنی