خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 519 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 519

خطبات مسرور جلد 14 519 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2016 ہیں۔اس لحاظ سے مجھے خدا تعالیٰ کا مزید شکر ادا کرنا چاہیئے اس لئے میں اس درد سے گزرنا مشکل نہیں سمجھتا۔پھر یہ ایک ہے کہ میں بیماری کے متعلق نہیں سوچ رہا بلکہ میں اپنے مطمح نظر کو دیکھ رہاہوں اور وہ یہ ہے کہ جماعت کی کس رنگ میں بہترین خدمت کر سکتا ہوں۔ان کے ایک دوست اور کلاس فیلو شیخ شمر جو مربی بنے کہتے ہیں ہمیشہ مسکراتے اور لوگوں کو خوش رکھتے۔مظہر احسن ہر ایک سے ایک سلوک کرتا جیسے صرف وہی بندہ اس کا دوست ہے۔کسی کو کسی بھی قسم کی دوری کا یا غیریت کا احساس نہیں ہونے دیتا تھا اور کبھی کسی کے ساتھ لڑائی نہیں کی۔اس کا دل بہت بڑا تھا۔ہر موقع پر تبلیغ کرتا اور کوئی بھی تبلیغ کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔ہسپتال میں تھا تو ادھر بھی بہت مشہور تھا کہ یہ مسلمان ہے جو ہر ایک کو تبلیغ کرتا ہے۔اس کی وجہ سے کبھی کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچی۔کبھی کسی کو برابھلا نہیں کہا۔دوسروں کی جتنی مدد کر سکتا تھا اس سے بڑھ کر کرتا۔ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا خیال رکھتا۔ہر ایک سے پیار اور محبت کے ساتھ رہتا۔ساحل محمودان کے کلاس فیلو، مربی ہیں۔کہتے ہیں ایسی عمدہ شخصیت کے ساتھ سات سال گزارنے کا موقع ملا ہے۔بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔اعلیٰ مہمان نوازی، عاجزی اور انکساری میں اعلیٰ نمونہ۔ہمیشہ حسن ظنی کا مظاہرہ کرنے والے۔ہر کام میں نیک نیت۔جامعہ کے شروع سالوں میں prefect تھے۔prefect کا کام ہوتا ہے کہ وقت پر لائٹ آف کر کے لڑکوں کو کہنا کہ سو جاؤ۔نمازوں کے لئے جگانا، کمرے کی صفائی کی طرف توجہ دلانا۔کبھی کوئی جھگڑا ہو جاتا تو اسے روکنا۔یہ سب ان کے کام تھے۔تو طلباء ان کو تنگ بھی کرتے تھے۔کہتے ہیں ہمیں ان کو تنگ کرنے کا بڑا مزہ آتا تھا۔کہتے ہیں ایک مرتبہ خاکسار نے کوئی غلطی کر دی جس پر انہوں نے مجھے ڈانٹا اور پھر چند منٹ کے بعد میرے پاس آکر معافی مانگنے لگ پڑے اور رو پڑے۔بڑے نرم دل کے انسان تھے۔کہتے ہیں کبھی میں بیمار ہو تا یا کسی وجہ سے طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی اور چھٹی والے دن لیٹا ہو تا تو میرے اٹھنے سے پہلے میرے بستر کے پاس ناشتہ لا کر رکھ دیا کرتا اور کبھی نزلہ ہوا تو بغیر مجھے پوچھے فوری طور پر گرم پانی شہد میں ڈال کر میرے لئے لے آتا۔اور کہتے ہیں جو میرے سے ملاقاتیں ہو تیں ان کا بڑے شوق سے ذکر کیا کرتا تھا۔مختصر یہ کہ زندہ دل، مخلص، عاجز، نیک، دین کا سچا مجاہد، تقویٰ شعار محنتی یہ تمام الفاظ مظہر کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ایک خوبی یہ بھی تھی کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرتا وہی اپنے دوستوں کے لئے بھی پسند کرتا اور کھانے پینے کے لئے جو کوئی چیزیں لا تا تو دوستوں کے لئے بھی لے کر آتا۔سادگی سے زندگی بسر کرتا اور اس کو فضول خرچی کرتے بالکل نہیں دیکھا جو جوانی کی عمر میں بعض لڑکے کرتے ہیں۔صفائی کا بہت خیال رکھنے والا اور نماز کا اور نماز تہجد کا با قاعدگی سے اہتمام کرتا۔اس کے ایک کلاس فیلو کہتے ہیں کہ مجھے بھی اٹھاتا۔انہوں نے کمرے میں ایک جائے نماز رکھی ہوئی تھی۔کہتے ہیں میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے کہ وہ راتوں کو اٹھ کر نفل ادا کیا کرتا تھا۔بلا ناغہ ہفتہ وار نفلی روزے بھی رکھتا اور