خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 518 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 518

خطبات مسرور جلد 14 518 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2016 مسجد میں کوئی فنکشن ہو رہا تھا جس میں یہ فیملی بھی شریک ہوئی اور ہم نے دیکھا کہ مظہر احسن صاحب سلام دعا کے بعد سید ھے کچن میں چلے گئے اور کچن ٹیم کے ساتھ تمام کام محنت اور جانفشانی سے کرتے رہے۔پہلے دن سے لے کر جب تک وہ جامعہ احمدیہ میں گئے ہمیشہ مسجد اور جماعت کی بھر پور خدمت کرتے رہے۔نہایت کم گو، نفیس طبیعت کے مالک، ظاہر بھی صاف اور باطن بھی صاف۔نہ کبھی گپ شپ میں شامل ہوئے، نہ کبھی وقت ضائع کیا۔انہیں وقت کے صحیح استعمال کا سلیقہ آتا تھا۔مربی سلسلہ ہونے کی وجہ سے وہ خاکسار کے بہت قریب رہتے اور انہیں خاکسار نے بہت قریب سے دیکھا۔اعلیٰ اخلاق کے مالک، بڑے ہی دھیرے لہجے میں گفتگو کرنے والے، ہر ایک کی عزت و احترام کرنے والے نوجوان تھے۔ان کی یہ دلی خواہش اور تڑپ تھی کہ ان کا وقف قبول ہو جائے اور جامعہ احمدیہ میں دینی تعلیم حاصل کر کے مبلغ بنیں اور خدمت دین کریں اور جس دن ان کو جامعہ میں داخلہ ملا اس دن وہ اتنے خوش تھے کہ گویاد نیا جہان کی نعمتیں مل گئی ہیں۔خلافت سے والہانہ عشق تھا۔ارشد محمود صاحب قائد گلاسگو لکھتے ہیں کہ خاکسار شارجہ کا قائد خدام الاحمدیہ منتخب ہوا۔پہلے یہ مظہر احسن بھی وہیں شارجہ میں تھے۔شارجہ قیام کے دوران جماعتی پروگراموں اور اجتماعات کے موقعوں پر ہونے والے علمی اور ورزشی مقابلہ جات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے دیکھا۔کہتے ہیں چونکہ شہر سے باہر دور ایک جگہ ہم اجتماع منعقد کیا کرتے تھے لہذا ہمیں کافی پہلے جا کر وقار عمل اور دوسری تیاری کرنی پڑتی تھی۔مرحوم باوجود چھوٹی عمر کے ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ان میں بڑی جرآت تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ اجتماع میں فی البدیہہ تقریر کا مقابلہ ہوا۔یہ مقابلہ مشکل تھا اور عنوان بھی مشکل تھا۔مظہر نے بھی حصہ لیا اور کیونکہ تیاری بھی ان کی نہیں تھی تو خدام ان کی تقریر سن کے بننے لگے مگر مظہر احسن نے اپنی تقریر جس طرح بھی کی اس کو پورا کیا اور کوئی پرواہ نہیں کی اور پھر کہنے لگا کہ اگر اسی طرح میں جھجھک گیا تو فائدہ کوئی نہیں ہو گا۔جھجھک تو اسی طرح اترتی ہے۔اور پھر کہتا ہے کہ ہمیں خدام کو مقابلہ جات میں سنجیدہ ہونا چاہئے۔اس نے کوئی پر واہ نہیں کی کہ لوگ ہنس رہے ہیں کہ نہیں ہنس رہے۔اس نے کہا جھجھک دور کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ میں بولتا چلا جاؤں جس طرح بھی مجھے آتا ہے۔ایک ہمارے گیمبین مربی سلسلہ عبدالرحمن چام ہیں جنہوں نے پچھلے سال جامعہ پاس کیا۔وہ کہتے ہیں کہ جامعہ کے دوران برادرم کے ساتھ کافی وقت گزارا۔جامعہ کے بعد ہم واٹس ایپ (WhatsApp) کے ذریعہ رابطہ میں رہے۔کہتے ہیں کہ خاکسار وہ میسیجز پیش کرتا ہے جو برادرم مظہر صاحب نے خاکسار کو بیماری کے بعد ارسال کئے۔ایک یہ تھا کہ میں اس بیماری سے گذر رہا ہوں لیکن حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بہت زیادہ احسانات کئے