خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 517 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 517

خطبات مسرور جلد 14 517 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2016 حافظ فضل ربی صاحب کہتے ہیں کہ قرآن کریم سیکھنے کا بے حد شوق تھا۔بڑی پیاری اور پر سوز آواز میں تلاوت کیا کرتے تھے اور جامعہ آنے سے پہلے بھی نیشنل تعلیم القرآن کلاس میں شامل ہونے کے لئے اپنی فیملی کے ہمراہ گلاسگو سے لندن آیا کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ بعض امیگریشن کے ان کے مسائل تھے۔کیس پاس نہیں ہو رہا تھا جس کی وجہ سے جامعہ میں پڑھنے کے باوجود یہاں لندن سے ہر دو ہفتے بعد گلاسگو جانا پڑتا تھا اور پھر واپس آنا پڑتا تھا۔تو کہتے ہیں میں نے اس کو کہا کہ تمہیں بڑی تکلیف ہوتی ہو گی۔تو کہنے لگا کہ کسی عظیم مقصد کے لئے چھوٹی چھوٹی تکلیفیں کوئی تکلیف نہیں ہوتیں۔جامعہ کے ایک استاد ہیں وسیم فضل صاحب وہ کہتے ہیں کہ مظہر احسن بہت باہمت، سنجیده، با ادب، مستقل مزاج طالبعلم تھا۔عزیزم کا شمار ان چند طلباء میں سے ہو تا تھا جو اپنی ذمہ داری کو نہایت خلوص و وفا اور محبت اور جانفشانی سے سر انجام دیتے تھے۔انتظامی امور میں بہت اچھے تھے۔کہتے ہیں کہ ہماری ہوسٹل کی انتظامیہ میں کئی سال سے بطور prefect خدمت کی توفیق پاتے رہے۔ایک موقع پر جب ایک اہم کام عزیز کے سپر د کیا جارہا تھا تو کسی نے دریافت کیا کہ کیا عزیزم یہ کام کر لیں گے۔اس پر ایک استاد نے عزیزم کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کام سپرد کرنے کے بعد تو ہمیں مظہر سے چھپنا پڑتا ہے کیونکہ وہ تو پھر ہم سے زیادہ فکر مندی، سنجیدگی اور مستقل مزاجی کے ساتھ کام میں مشغول ہو جاتا ہے۔یہ کہتے ہیں عزیزم کی انتظامی صلاحیتیں اور بے لوث خدمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چند سال قبل جامعہ احمدیہ کی سالانہ کھیلوں کے موقع پر عزیزم کی ڈیوٹی شعبہ ضیافت میں لگائی گئی۔کھیلوں کے آخری دن بہت سے مہمان تشریف لاتے ہیں اور دو پہر کو ظہرانہ کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔عزیزم نے اس موقع پر ساری رات جاگ کر تمام انتظامی کاموں میں بھر پور حصہ لیا اور ایک لمحے کے لئے بھی آرام نہ کیا۔اگلے روز بھی اسی بشاشت کے ساتھ خدمت میں مصروف رہا۔پروگرام کے بعد عزیزم نے اس شعبہ سے متعلق ایک مفصل اور جامع رپورٹ بھی تیار کی جو اب بھی انتظامیہ کے پاس موجود ہے اور اس رپورٹ کے ذریعہ اس شعبہ کے کاموں میں بہت مدد مل رہی ہے۔حافظ مشہود صاحب کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل جب عزیزم سے فون پر بات ہوئی تو عزیزم نے اظہار کیا کہ میں جلد از جلد صحت یاب ہو کر بطور مبلغ دین کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔نیز کہا کہ اب جبکہ میر اعلاج ہو رہا ہے تو میں نے اپنی مقامی جماعت میں کام کرناشروع کر دیا ہے۔اسی طرح ایک موقع پر عزیزم نے ذکر کیا کہ وہ گلاسگو میں ہونے والی پانچ کلو میٹر چیریٹی واک میں حصہ لے رہا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا۔ملک اکرم صاحب وہاں کے مربی سلسلہ تھے۔انہوں نے لکھا کہ مظہر احسن صاحب کی فیملی جب دبئی سے گلاسگو شفٹ ہوئی تو خاکسار سکاٹ لینڈ میں بطور مربی خدمت بجالا رہا تھا۔جس روز یہ فیملی گلاسگو میں آئی اسی روز